رمضان کے بعد بھی مہنگائی کا جن بے قابو، مجموعی شرح 46.82فیصد تک جاپہنچی
رواں ہفتے کے دوران آلو، چکن، آٹا، چاول، دال مونگ، چائے، صابن، پٹرول، گیس، سگریٹ سمیت 21 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ، پیاز، ٹماٹر، چینی، کیلے، ایل پی جی سمیت 7 اشیا کی قیمتوں میں کمی، 23 اشیا کی قیمتیں برقرار رہیں، ادارہ شماریات

ملک میں رمضان المبارک کے بعد بھی مہنگائی کا جن بے قابو ہے۔ عید الفطر کے بعد پہلے ہفتے میں بھی مہنگائی کی مجموعی شرح 46.82فیصد تک جاپہنچی ہے۔
ادارہ شماریات نے رمضان المبارک کے بعد پہلے ہفتے میں مہنگائی کے اعدادو شمار جاری کردیے ۔ ہفتہ وار بنیاد قیمتوں کے حساس اشاریہ میں 0.15 فیصد اضافہ ہوا جس میں کھانے پینے کی اشیا بالخصوص آٹا، پھل، ٹماٹر، آلو، پیاز، گوشت اور کوکنگ آئل مہنگا ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
شرائط در شرائط: آئی ایم ایف کا وزارت خزانہ کو 20 لاکھ دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا ٹاسک
دی اکانومسٹ نے پاکستان میں مزید معاشی بدحالی کی پیشگوئی کردی
بڑھتی ہوئی قیمتیں سب سے زیادہ تنخواہ دار طبقے کو متاثر کر رہی ہیں کیونکہ مہنگائی میں اضافے کے پیش نظر دیگر طبقات اپنی سروس اور لیبر چارجز کے ساتھ ساتھ اپنی تیار کردہ مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیتے ہیں جبکہ مقررہ تنخواہ وصول کرنے والا طبقہ، بالخصوص نچلے طبقے کے لوگ مہنگائی میں اضافے سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے 20 اپریل کو قیمتوں کے حساس اشاریہ میں سالانہ بنیادوں پر 47.23 فیصد، 22 مارچ کو 46.65 فیصد، یکم ستمبر 2022 کو 45.5 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا، یہ گزشتہ سال 18 اگست کو 42.31 فیصد تک پہنچنے کے بعد اب پہلی بار 40 فیصد سے اوپر گیا ہے۔
رمضان کے آغاز کے بعد سے قیمتوں کے حساس اشاریہ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ روپے کی قدر میں مزید کمی کے ساتھ ساتھ پٹرول اور بجلی کی قیمتوں اور سیلز ٹیکس میں اضافہ بھی جاری ہے، جلد خراب ہونے والی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا ایک سبب ٹرانسپورٹیشن چارجز میں اضافہ بھی ہے۔
ایس پی آئی کے تحت 51 ضروری اشیا کی قیمتیں ملک کے 17 شہروں کی 50 مارکیٹوں سے حاصل کی جاتی ہیں، تازہ اعدادوشمار کے مطابق اِن 51 اشیا میں سے 21 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ 7 اشیا کی قیمتوں میں کمی ہوئی، تاہم 23 اشیا کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
رواں ہفتے کے دوران جن اشیا کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر سب سے زیادہ اضافہ ہوا ان میں گندم کا آٹا (175.06 فیصد)، سگریٹ (146.44 فیصد)، آلو (114.45 فیصد)، گیس چارجز (108.38 فیصد)، لپٹن چائے (104.28 فیصد)، ڈیزل (102.84 فیصد)، انڈے (91.98 فیصد)، پٹرول (87.81 فیصد)، باسمتی چاول (87.71 فیصد)، کیلے (86.33 فیصد)، چاول ایری-6/9 (83.39 فیصد)، دال مونگ (67.60 فیصد)، روٹی (61.02 فیصد)، دال ماش (58.10 فیصد) اور صابن (49.93 فیصد) شامل ہیں۔
ہفتہ وار بنیادوں پر سب سے بڑا اضافہ آلو (8.22 فیصد)، چکن (1.75 فیصد)، گندم کا آٹا (1.55 فیصد)، گڑ (1.23 فیصد)، روٹی (1.13 فیصد) اور چاول ایری 6/9 (1.01 فیصد) کی قیمتوں میں دیکھی گئی۔
جن مصنوعات کی قیمتوں میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی ان میں ٹماٹر (19.20 فیصد)، کیلے (5.39 فیصد)، پیاز (1.40 فیصد)، چینی (1.19 فیصد)، ایل پی جی (1.09 فیصد)، دال مسور (0.98 فیصد) اور سرسوں کا تیل (0.39 فیصد) شامل ہیں۔
حکومت مالیاتی خسارہ پورا کرنے اور آمدنی میں اضافے کیلیے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ایندھن اور بجلی کے نرخوں میں اضافے، سبسڈیز کے خاتمے، مارکیٹ کی بنیاد پرشرح تبادلہ اور زیادہ ٹیکس عائد کرنے جیسے سخت اقدامات پر عمل پیرا ہے جس کے نتیجے میں معاشی ترقی کی رفتار سست اور آنے والے مہینوں میں مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔









