معاشی ماہر نے درآمدات میں گراوٹ کو مہنگائی کی وجہ قرار دیدیا
اپریل میں درآمدات جی ڈی پی کے مقابلے میں 2.96 ارب ڈالر کی نچلی ترین سطح پر رہی، مہنگائی اور گرتی ہوئی درآمدات کسی نہ کسی طرح جڑے ہوئے ہیں،درآمدات میں کمی سے قلت پیدا ہو رہی ہے جو مہنگائی کو ہوا دے رہی ہے، علی خضر

ملکی تاریخ میں ماہانہ مہنگائی کی شرح 36.42فیصد کی بلند ترین سطح پر جاپہنچی ہے جبکہ جی ڈی پی کے مقابلے میں درآمدات کی شرح بھی ملک تاریخ کی نچلی ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
معاشی ماہر علی خظر نے درآمدات میں گراوٹ کو مہنگائی بڑھنے کی وجہ قرار دیدیا۔
یہ بھی پڑھیے
ملکی تجارتی خسارہ 23 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا
کے الیکٹرک صارفین پر نیپرا کی کاری ضرب، بجلی 3.70 روپے فی یونٹ مہنگی کردی
ماہر معاشیات علی خضر نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ دو معاشی اعشاریے ریکارڈ توڑ رہے ہیں۔مہنگائی جو بڑھ رہی ہے ،پریل میں 36.4 فیصد تک جاپہنچی ہے جبکہ درآمدات جو گر رہی ہیں ، اپریل میں 2.96ارب ڈالر رہیں جو جی ڈی پی کے لحاظ سے سب سے کم ترین سطح میں سے ایک ہے۔
Two economic numbers are breaking records
inflation which is growing – 36.4% in April
Imports which are falling – $2.96 bn in April – one of the lowest in terms of GDP
And these two are somehow connected
Lower imports are creating shortages which is fueling inflation
— Ali khizar (@AliKhizar) May 2, 2023
انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی اور گرتی ہوئی درآمدات کسی نہ کسی طرح جڑے ہوئے ہیں،درآمدات میں کمی سے قلت پیدا ہو رہی ہے جو مہنگائی کو ہوا دے رہی ہے۔
واضح رہے کہ ادارہ شماریات نے گزشتہ روز مہنگائی کے حوالے سے اپریل کے اعداد و شمار جاری کیے تھے جن کے مطابق اپریل میں ماہانہ مہنگائی 36.42 فیصد پر پہنچ گئی۔
ادارہ شماریات کے مطابق اشیائے خور و نوش کی مہنگائی اپریل میں 52.2 فیصد ریکارڈ کی گئی ، اپریل میں دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شرح ریکارڈ 40.7 کی سطح پر رہی۔









