ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹ کے ڈیفنس آفس میں اندھیر نگری چوپٹ راج، ویب سائٹ بھی ناکارہ
خاتون کو اپنی رقم نکوالنے کیلیے غیر ضروری سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ عملے نے اپنی رقم نکوالنے کی خواہشمند خاتون سے ان کی بینک اسٹیٹمنٹ طلب کرلی اور وجہ پوچھنے پر اسے لازمی کارروائی قرار دیا۔
ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹ ، مرکز قومی بچت اسکیم اور اس طرح کے دیگر منصوبوں میں عوام اپنا سرمایہ اس مقصد کے لیے لگاتے ہیں تاکہ ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں، لیکن یہاں بھی عملے کی کارکردگی دیگر سرکاری اداروں سے مختلف نہیں ہے۔
قومی بچت اسکیم میں سرمایہ کاری کرنے والی خاتون گزشتہ دنوں اپنی رقم نکلوانے کے لیے ڈی ایچ اے میں واقع دفتر گئیں تو عملے کی جانب سے روایتی بدسلوکی کا مظاہرہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
صدر ایشیائی ترقیاتی بینک کا پاکستان کے معاشی اصلاحاتی اقدامات پر اعتماد کا اظہار
بینکوں کا نجی شعبے کو قرض دینے سے گریز، ٹریژری بلز میں 705 ارب کی سرمایہ کاری
خاتون کو اپنی رقم نکوالنے کیلیے غیر ضروری سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ عملے نے اپنی رقم نکوالنے کی خواہشمند خاتون سے ان کی بینک اسٹیٹمنٹ طلب کرلی اور وجہ پوچھنے پر اسے لازمی کارروائی قرار دیا۔
خاتون نے اپنے ناخوشگوار تجربے کے حوالے نیوز 360 سے خصوصی گفتگو بھی کی اور آفس کی تصویر اور عملے کی جانب سے دی جانے والی پرچیوں کی تصاویر بھی شیئر کیں۔

نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے خاتون نے بتایا کہ انہوں نے 2009 میں ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس خریدے تھے ، جنہیں آج وہ کیش کرانے کےلیے ڈی ایچ اے میں واقع آفس میں آئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ عملے کی جانب سے جو پرچی دی گئی وہ ایسی پرچی تھی جیسے کسی انتہائی لولیول کے سرکاری اسپتال میں دی جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 70 سے 80 سال کی عمر کے ایک صاحب صارفین کو ڈیل کررہے تھے ، انہوں نے پرچی دے کر دوسرے کاؤنٹر پر روانہ کیا۔ دوسرے کاؤنٹر سے ویسی ہی ایک اور پرچی تھما دی گئی ، پہلی پرچی پر 102 نمبر لکھا تھا جبکہ دوسرے کاؤنٹر سے ملنے والی پرچی کا نمبر 20 تھا۔ عملہ عجیب کنفیوژن کا شکار تھا۔

خاتون نے بتایا کہ میں عملے کی جانب سے غیر ضروری سوالات سے تنگ آکر ویب سائٹ پر شکایت کرنے کے لیے ویب سائٹ کو کھولا تو بھی ہینگ پوزیشن پر تھی۔ وہاں پر بھی شکایت درج کرانے سے قاصر رہی۔
نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے خاتون نے بتایا کہ جب ساری رسمیات پوری ہو گئی تو کیش کاؤنٹر پر تشریف فرما خاتون بتایا کہ اب کیش پیمنٹ نہیں ہوتی اب بائی چیک پےمنٹ کی جاتی ہے۔ عملے کی خاتون نے ساتھ ہی میری سیلیری سلپ بھی ڈیمانڈ کردی۔ جس پر میں نے عملے کی خاتون سے کہا کہ آپ کو میری سیلیری سلپ کی کیوں ضرورت ہے ، میں تو اپنی رقم ڈرا کروانے آئی ہوں ، آپ مجھے میرا چیک اور بات ختم، تاہم عملے کی خاتون بضد تھیں کہ یہ حکومت کا نیا حکم ہے۔









