امریکی ڈالر نے پاکستانی روپے کے مقابلے میں ٹرپل سینچری مکمل کرلی
ملک میں جاری سیاسی بے یقینی کی صورتحال کی وجہ سے روپیہ کی قدر میں بدترین کمی واقع ہوئی جس کے باعث امریکی ڈالر نے اپنی ٹرپل سینچری مکمل کی، اوپن مارکیٹ میں ایک ڈالر 305 روپے تک پہنچ گیا جبکہ انٹر بینک میں 299 روپے کی سطح پر موجود ہے

ملک میں جاری سیاسی بے یقینی نے پاکستانی روپے کا شدید دباؤ میں مبتلا کردیا ہے۔ امریکی ڈالر، روپے کے مقابلے میں تمام سابق ریکارڈ توڑ تے ہوئے ٹرپل سینچری مکمل کرلی ہے ۔
پاکستان میں جاری سیاسی بے چینی نے آج (جمعرات) کو انٹربینک اور اوپن کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کو پاکستانی روپے کے مقابلے میں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے ۔
یہ بھی پڑھیے
انٹربینک میں دوران ٹریڈنگ میں ایک امریکی ڈالر 9 روپے اضافے سے 299 روپے کا ہوگیا ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں ایک ڈالر ٹرپل سینچری کی حد بھی عبور کر گیا ہے ۔
فاریکس ٹریڈنگ کی تاریخ میں پہلی بار امریکی ڈالر 300 روپے کا ہندسہ عبور کرکے مقامی یونٹ کے مقابلے میں301 روپے تک پہنچ گئی، مارکیٹ میں ڈالر 10 روپے مہنگا ہوا ۔
اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالراس وقت تقریباً 305 روپے کے قریب ٹریڈنگ کررہا ہے۔ انٹربینک کرنسی ٹریڈنگ ماکریٹ میں ایک امریکی ڈالر 298 روپے کے لگ بھگ ہے۔
کرنسی مارکیٹ میں گزشتہ چار سیشنز کے دوران ایک ڈالر کی قیمت میں تقریباً 15 روپے اضافہ ہوا۔ چار سیشنز میں قرضوں کے بوجھ میں1800 ارب کا اضافہ ہوگا۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں بننے والی حکومت کے ایک سال کے دوران امریکی ڈالر کی قدر میں شہباز شریف حکومت میں ڈالر 116 روپے اضافہ ہوچکا ہے ۔
یہ بھی پڑھیے
مسلسل تین روز سے انٹر نیٹ سے محروم پاکستانیوں نے وی پی این کا سہارا لینا شروع کردیا
پی ڈی ایم اتحادی حکومت کی آمد کے بعد سے اوپن کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر نے روپے کو شدید دباؤ میں رکھا ہوا ہے اور اس دوران اس کی قدر میں 120 روپے اضافہ ہوا ۔
معاشی ماہرین کے مطابق روپے کی قدر میں کمی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے قرض پروگرام اور سیاسی غیریقینی صورتحال میں اضافے کی وجہ سے دیکھی گئی ۔









