وفاقی حکومت کا بجلی صارفین پر مزید 500 ارب روپے کا بوجھ ڈالنے کا فیصلہ

حکومت نے گذشتہ سال بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 7.91 روپے فی یونٹ کا اضافہ کیا۔ صارفین پر 3 روپے 39 پیسے فی یونٹ کا اضافی سرچارج بھی عائد کیا گیا۔

شہباز شریف حکومت نے غریب عوام کو مزید زندہ درگور کرنے کا پروگرام بنا لیا ، حکومت نے بجلی صارفین پر مزید 500 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کا فیصلہ کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کا بنیادی ٹیرف مہنگا کرنے کا فیصلہ کرلیا یے۔ بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 4.96 روپے اضافے کا بوجھ 500 ارب روپے بنے گا۔

یہ بھی پڑھیے 

غریب جائے تو جائے کہاں؟ ملک بھر میں مہنگائی کی شرح 29 فیصد تک پہنچ گئی

مہنگائی کی ماری عوام کو بجلی کا ایک اور جھٹکا: فی یونٹ قیمت میں 4 روپے 96 پیسے اضافہ

مزید تفصیل کے مطابق ایک سال میں بجلی کے اوسط بنیادی ٹیرف میں اضافہ 12 روپے 87 پیسے فی یونٹ ہو جائے گا۔ ایک سال میں بجلی کا اوسط بنیادی ٹیرف 16 روپے  91 پیسے سے  بڑٖھ کر 29 روپے 78 پیسے فی یونٹ ہو جائے گا۔

کسی بھی حکومت میں بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اتنا اضافہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ہوگا۔ سیلز ٹیکس کے بعد اوسط بنیادی ٹیرف 35.14 روپے فی یونٹ میں پڑے گا۔ 29.78 روپے کے بنیادی ٹیرف پر سیلز ٹیکس 5.36 روپے فی یونٹ بنے گا۔

بجلی کا زیادہ سے زیادہ فی یونٹ ٹیرف 50 روپے تک بڑھ جائے گا۔ موجودہ حکومت پہلے ہی بجلی صارفین پرایک ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ ڈال چکی۔

حکومت نے گذشتہ سال بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 7.91 روپے فی یونٹ کا اضافہ کیا۔ صارفین پر 3 روپے 39 پیسے فی یونٹ کا اضافی سرچارج بھی عائد کیا گیا۔ صارفین شہباز شریف حکومت کی جانب سے سہہ ماہی اور ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اضافے کا بوجھ الگ برداشت کررہے ہیں۔

متعلقہ تحاریر