اسٹیٹ بینک کی اجازت کے بغیر اے ٹی ایم خدمات پر رقم کی وصولی
صارفین کا کہنا ہے بینکوں نے ازخود اے ٹی ایم خدمات پر رقم وصول کرنا شروع کر دی ہے جسے اسٹیٹ بینک فوری طور پر رکوائے۔

اسٹیٹ بینک کی اجازت کے بغیر تمام کمرشل بینکوں نے اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے پر رسید کی وصولی کی مد میں رقم وصول کرنا شروع کر دی ہے۔ بینکس مشینز سے رسید لینے پر سوا دو روپے (2 روپے 25 پیسے) تک خدمات کی مد میں رقم وصول کر رہے ہیں۔ صارفین کا مطالبہ ہے کہ اسٹیٹ بینک اپنے ماتحت بینکوں کی اِس غیر قانونی وصولی کو فوری طور پر رکوائے۔
صارفین کے مطابق پیسے نکلوانے پر اے ٹی ایم مشین پر آپشن آتا ہے کہ کیا آپ رسید حاصل کرنا چاہتے ہیں یا نہیں؟ اگر صارف ہاں کے آپشن کو منتخب کرے گا تو رسید پرنٹ ہوجائے گی اور سوا 2 روپے بینک اکاؤنٹ سے کٹ کر بینک کے خزانے میں چلے جائیں گے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان عابد قمر کا کہنا ہے کہ ‘اے ٹی ایم رسید جاری کرنے پر چارجز عائد کرنے سے متعلق کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئیں۔ تمام بینکس اپنی خدمات کے عوض صارفین سے چارجز لینے میں آزاد ہیں۔ بینکس جو بھی چارجز عائد کرتے ہیں وہ شیڈول آف چارجز میں شائع ہوتے ہیں۔’
انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیٹ بینک نے بعض خدمات پر چارجز کی حد مقرر کی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان میں خواتین کے بینک اکاؤنٹس کیوں کم ہیں؟
دوسری جانب ماہرین کے مطابق ملک بھر میں کمرشل بینکوں کے ساڑھے 5 کروڑ صارفین ہیں جن میں سے جو بھی صارف اے ٹی ایم سے رقم نکلوائے گا اسے 2 روپے 25 پیسے ادا کرنا ہوں گے۔ صارف جب بینک میں جا کر اکاؤنٹ کھلواتا ہے اور کارڈ حاصل کرتا ہے تو بینکوں کی جانب سے کوئی ایسی شرط نہیں لگائی جاتی کہ جب صارف اے ٹی ایم استعمال کرے گا تو چارجز لاگو ہوں گے۔
کمرشل بینکس اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ماتحت کام کرتے ہیں اور تمام قوانین اسٹیٹ بینک ہی متعارف کراتا ہے۔ صارفین کا سوال ہے کہ کمرشل بینکس اتنا بڑا فیصلہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور صارفین کو اعتماد میں لیے بغیر کیسے کرسکتے ہیں؟
صارفین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کو اے ٹی ایم پر لگائے گئے چارجز وصول کرنے پر عملدرآمد سے فوری طور پر روکنا چاہیے کیونکہ بینک صارف پہلے ہی کئی قسم کے ٹیکسز کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔









