رواں مالی سال پاکستانی فن پاروں کی برآمدات میں اضافہ
روزنامہ ڈان کے مطابق گذشتہ مالی سال جولائی سے مارچ کے دوران فن پاروں اور نوادرات کی برآمدات سے 3 لاکھ 86 ہزار ڈالرز آمدنی ہوئی تھی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو مہینوں میں پاکستانی فن پاروں اور نوادرات کی برآمدات 3 کروڑ 65 لاکھ ڈالرز سے زیادہ رہی ہیں ہے۔
پاکستان کے انگریزی روزنامے ڈان کے مطابق ایس بی پی کے پیر کے روز فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملکی فن پاروں اور نوادرات کی برآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ مالی سال جولائی سے مارچ کے دوران فن پاروں اور نوادرات کی برآمدات 3 لاکھ 86 ہزار ڈالرز رہی تھیں۔ جبکہ موجودہ سال میں یہ بڑھ کر 3 کروڑ 65 لاکھ ڈالرز سے زیادہ ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
پیرس کلب کے تحت پاکستانی قرضے کی ادائیگی موخرکرنے کا اعلان
کرونا کی وباء نے جہاں پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کیا ہے وہیں پاکستانی فن پاروں اور نوادرات کی برآمدات میں اضافہ ایک حیران کن بات ہے۔

معاشی امور کے ماہرین ملک کی برآمدات پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں جن پر پاکستانی معیشت کا ایک حد تک انحصار ہوتا ہے۔
روزنامہ ڈان نے اپنی خبر میں سوال اٹھایا ہے کہ ’کرونا کی وبا نے معیشت کے تمام شعبوں کو اوپر سے لے کر نیچے تک متاثر کیا ہے۔ تو پھر ایسی کیا چیز ہے جس کی وجہ سے فن پاروں کی برآمدات کو کرونا وائرس سے استثنیٰ حاصل ہو گیا؟‘
روزنامہ ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے اوشین گیلری کے مالک خلیل احمد کا کہنا ہے کہ ’برآمدات میں اضافے سے مجھے کوئی حیرت نہیں ہوئی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’کرونا کی وباء سے قبل غیرممالک سے فن کے شوقین پاکستان آتے تھے، آرٹس کی مختلف نمائشوں میں شرکت کرتے تھے اور قیمتی فن پارے خرید کر اپنے اپنے ممالک لے جاتے تھے۔‘

ڈان کے مطابق خلیل احمد کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ ایک سال سے کرونا کی وباء کی وجہ سے چونکہ ایک ملک سے دوسرے ملک کا سفر تقریباً ختم ہو گیا اس لیے فن کے شوقین حضرات نے پینٹنگز آن لائن خریدنا شروع کردی ہیں۔ وہ کسی ویب سائٹ یا واٹس ایپ پر فن کے نمونے کو دیکھ کر اسے خرید لیتے ہیں۔‘
خلیل احمد کا کہنا تھا کہ ’چند روز پہلے میں نے 17 پینٹنگز بیرون ملک برآمد کی تھیں جن کے ڈلیوری چاجز بھی خریدار نے خود ادا کیے تھے۔‘
روزنامہ ڈان کے مطابق پاکستانی فن دنیا بھر میں خاص طور پر امریکہ، کینیڈا اور یورپ تک پہنچ چکا ہے۔ مصر اور ترکی جیسے ممالک بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

شکیرا مسعود جو خود ایک آرٹ گیلری چلاتی ہیں انہوں نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کو ایک چٹکی نمک کے برابر قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے معلوم ہے کہ فن پاروں کی فروخت میں اضافہ ہوا مگر اب یہ فن ختم ہورہا ہے۔‘
ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے آرٹسٹ آر ایم نعیم کا کہنا تھا کہ ’یہ میرا اختیار نہیں کہ میں اس پر بات کروں کیونکہ میں مقامی طور پر آرٹ کا کام کرتا ہوں ، تاہم یہ اچھی بات ہے کہ فن پاروں اور نوادرات کے برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔‘









