اسٹاک ایکسچینج پر حملے کو سال گزر گیا، تفتیش کہاں تک پہنچی؟
تفتیشی حکام کا دعویٰ ہے کہ مقدمے کی تفتیش میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے کو ایک سال مکمل ہوگیا ہے۔ سی ٹی ڈی حکام مقدمے میں مثبت پیشرفت کا دعویٰ کررہے ہیں۔
کراچی میں پاکستان کے سب سے بڑے بازار حصص اسٹاک ایکسچینج پر دہشتگردوں کے حملے کو ایک سال مکمل ہوگیا۔ 29 جون کی صبح دہشتگردوں نے اسٹاک ایکسچینج پر حملہ کیا تھا جہاں سیکیورٹی اہلکاروں کے بروقت اور موثر ایکشن کے باعث امن دشمنوں کو منہ کی کھانا پڑی تھی۔ 29 جون 2020 کی صبح پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں معمول کی کاروباری سرگرمیاں جاری تھیں کہ علاقہ یکدم گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونج اٹھا۔ کار میں سوار ہو کر آنے والے 4 دہشتگردوں نے فائرنگ کرتے ہوئے اسٹاک ایکسیچنج کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ داخلی راستے پر ہی موجود پولیس کے شعبہ ریپڈ رسپانس فورس کے اہلکاروں نے ایسا ایکشن لیا کہ کچھ ہی دیر میں نہ صرف دہشتگردوں کے تمام منصوبوں کو ناکام بنادیا گیا بلکہ بزدلانہ حرکت کرنے والوں کو بھی ٹھکانے لگادیا گیا۔ اس موثر اور بروقت ایکشن کا سہرا ریپڈ رسپانس فورس کے دو کمانڈوز خلیل اور رفیق سومرو کے سر جاتا ہے جنہوں نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشتگردوں کو اسٹاک ایکسچینج کی عمارت میں داخل ہی نہیں ہونے دیا۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان اسٹاک ایکسچینج 48 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا
اسٹاک ایکسچینج حملے کی تحقیقات کرنے والے سی ٹی ڈی حکام کہتے ہیں کہ واقعہ پاکستان کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کی کوشش تھی جس کے پیچھے ملک دشمن عناصر کارفرما تھے۔ سی ٹی ڈی حکام کے مطابق اسٹاک ایکسچینج اور دیگر اہم مقامات و تنصیبات پر حملوں کی اطلاعات وقتاً فوقتاً موصول ہوتی رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے ک اس وقت بھی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے چوکنا تھے۔ تفتیشی حکام دعویٰ کرتے ہیں کہ مقدمے کی تفتیش میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، مستقبل میں بھی ایسی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے سیکیورٹی ادارے ہمہ وقت تیار ہیں۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسٹاک ایکسچینج پر کی جانے والی دہشتگردوں کی بزدلانہ کارروائی میں سندھ پولیس کے سب انسپکٹر شاہد اور اسٹاک ایکسچینج کے 3 سیکیورٹی گارڈز نے جام شہادت نوش کیا تھا جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ حملے کی ذمہ داری کالعدم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔
تفتیشی حکام کا دعویٰ ہے کہ 2018 میں چائنیز قونصلیٹ کراچی میں ہونے والا حملہ بھی اسی دہشتگرد گروہ کی کارروائی تھی۔ امن دشمنوں کے اس گروہ اور سہولت کاروں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔









