مقامی سطح پر تیار موبائل فونز نے درآمدات کو پیچھے دھکیل دیا

پاکستان میں رواں سال کے 7 ماہ میں ایک کروڑ 22 لاکھ موبائل تیار کیے گئے ہیں۔

پاکستان نے ٹیلی کمیونیکشن کے میدان میں ایک اہم سنگ میل عبور کرلیا ہے۔ مقامی سطح پر تیار کردہ موبائل فونز کی تعداد درآمدی موبائل فون سے زیادہ ہوگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں رواں سال کے 7 ماہ میں ایک کروڑ 22 لاکھ موبائل فونز تیار کیے گئے ہیں۔

حکومت کی جانب سے بجٹ 2021-22 میں ٹیکسز میں واضح کمی کرنے کے بعد غیرملکی سرمایہ کار پاکستان میں کاروبار کو ترجیح دے رہے ہیں۔ موبائل مینوفیکچرنگ کمپنیز کو مقامی سطح پر موبائل فون تیار کرنے کی اجازت دینے کے حیران کن نتائج سامنے آگئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مختلف موبائل کمپنیز سام سنگ، نوکیا، اوپو، ٹیکنو، انفینکس، ویگوٹل اور کیو موبائل نے مقامی سطح پر موبائل فون تیار کرکے فون کی درآمدات کی شرح کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔  جنوری تا جولائی 2021 کے دوران پاکستان میں ایک کروڑ بائیس لاکھ ستر ہزار موبائل فون تیار کیے جبکہ اسی عرصے میں درآمد شدہ موبائل فون کی تعداد بیاسی لاکھ نوے ہزار ریکارڈ کی گئی۔

مقامی سطح پر تیار کئے گئے ایک کروڑ 22 لاکھ 17 ہزار موبائل فونز میں 38 لاکھ 70 ہزار 4 جی اسمارٹ فونز بھی شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل مینوفیکچرنگ پالیسی سمیت سازگار حکومتی پالیسیوں کی بدولت مقامی سطح پر موبائل فون کی تیاری کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوا ہے۔

ماہرین کے مطابق حکومت کے اس اقدام سے پاکستان کے موبائل فون تیاری کے نظام پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اسی طرح ہر قسم کی ڈیوائس کی درآمدات کے لیے یکساں قانونی ذرائع کی موجودگی سے صارفین کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیے

“میڈ ان پاکستان” فور جی اسمارٹ موبائل فونز کی پہلی کھیپ برآمد

واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے مینوفیکچررز کو پاکستان میں اپنے یونٹ کے قیام کے حوالے سے ایک جامع موبائل مینوفیکچرنگ پالیسی متعارف کرائی گئی ہے۔ اس پالیسی کی روشنی میں پی ٹی اے نے 28 جنوری 2021 کو موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ (ایم ڈی ایم) ریگولیشنز جاری کیں۔ اس سلسلے میں اب تک 26 کمپنیوں کو موبائل تیار کرنے کا اجازت نامہ جاری کیا گیا ہے جس میں سام سنگ، نوکیا، اوپو، ٹیکنو، انفینکس، ویگوٹل، کیو موبائل ودیگر شامل ہیں۔

ماہرین معاشیات کے مطابق پاکستان میں موبائل فون کی تیاری سے جہاں موبائل فون کا درآمدہ بل کم ہوا ہے وہیں مقامی صنعت کے فروغ سے روزگار کے مواقعے بھی بڑھے ہیں۔

Facebook Comments Box