گاڑیاں بنانے والی کمپنی فورڈ نے بھارت میں اپنے پلانٹ بند کردیے

گاڑیوں کی مانگ میں کمی کے باعث کمپنی کو 2 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

امریکا کی گاڑیاں بنانے والی مشہور کمپنی فورڈ موٹر نے بھاری نقصان اٹھانے کے باعث بھارت میں اپنے پلانٹ بند کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ سال 2022 تک وہ بھارت میں اپنے دونوں پلانٹ بند کریں گے۔ اس سے قبل امریکی کمپنیاں جی ایم اور ہارلے ڈیوڈسن بھی بھارت میں اپنے پلانٹ بند کرچکی ہیں۔

فورڈ کمپنی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ 2022 کی شروعات میں بھارتی ریاست گجرات  اور تامل ناڈو میں قائم اپنے پلانٹ بند کر دیں گے۔ کمپنی نے وضاحت کی کہ ان کے پلانٹ انڈیا میں برقرار رہیں گے تا کہ تیار شدہ انجن دیگر ممالک تک پہنچائے جائیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ  ٹوئٹر پر فورڈ کمپنی نے بھارت میں اپنے پلانٹ بند کرنے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں بھارت کے اندر گاڑیوں کی مانگ میں ریکارڈ کمی ہوئی ہے جس کے باعث کمپنی کو 2 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق فورڈ کمپنی نے بھارت میں گاڑیوں کے پانچ ماڈل متعارف کروائے ہیں۔ کمپنی نے اپنے صارفین کو سہولیات کی فراہمی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکی فورڈ کمپنی گزشتہ 25 سالوں سے بھارت میں گاڑیاں بنا رہی ہے۔ فورڈ بھارت میں گاڑیوں کی بڑی کمپنیوں میں نویں نمبر پر ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں گاڑیاں سستی ہونے والی ہیں؟

فورڈ کمپنی سے قبل 2017 میں جنرل موٹرز نے بھی میں اپنے پلانٹ بند کردئے تھے۔ اسی طرح مارکیٹ سکڑنے کی وجہ سے موٹرسائیکل بنانے والی مشہور کمپنی ہارلے ڈیوڈسن نے بھی بھارت میں اپنے کارخانے بند کردیے ہیں۔

عالمی معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے کرونا وائرس اور حکومت کی غلط پالیسیز کی وجہ سے بھارت میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی وجہ سے عالمی کمپنیاں اب بھارت میں اپنے تمام پلانٹ بند کررہی ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق نریندر مودی کی حکومت بیرونی کمپنیوں کو بھارت میں سرمایہ کاری کی جانب راغب  کرنے کی سرتوڑ کوششیں کررہی ہے لیکن انہیں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ اب فورڈ کمپنی کی جانب سے اپنے پلانٹ بند کرنے پر بھارت کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

Facebook Comments Box