ڈالر اور اسٹاک مارکیٹ نے نئی حکومت کے ہاتھوں کے طوطے اڑادیے
روپے کے مقابلے میں ڈالر کی اونچی اڑان جاری، ڈیڑھ روپے اضافے سے انٹربینک میں 186 اور اوپن مارکیٹ میں 187.50روپے پر بند ہوا، اسٹاک مارکیٹ 390 کے خسارے پر بند ہوئی

ڈالر اور اسٹاک مارکیٹ نے نئی حکومت کے ہاتھوں کے طوطے اڑادیے۔ شہبازشریف کے اقتدارسنبھالنے کے بعد قابو میں آنے والا ڈالر اور اسٹاک مارکیٹ ایک ہفتے کے اندر ہی پھر بے قابو ہوگئے۔اسٹاک مارکیٹ مسلسل دوسرے روز بھی مندی کا شکار رہی۔
تبادلہ مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی اونچی اڑان جاری ہے۔بدھ کو انٹربینک میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں ایک روپے 56پیسے اضافہ ہوا جس کے بعد انٹربینک میں ڈالر 186 روپے پر بند ہوا ۔
یہ بھی پڑھیے
مفتاح اسماعیل نے بھی پچھلی حکومت میں برآمدات بڑھنے کا اعتراف کرلیا
غیریقینی سیاسی صورتحال: غیر ملکی سرمایہ کاری میں 45 کروڑ ڈالر کی کمی
گزشتہ 4 روز کے دوران انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں 4 روپے 46 پیسے اضافہ ہوچکا ہے۔ 16 اپریل کو انٹربینک میں ڈالر 181روپے 54 پیسے پر بند ہوا تھا۔
دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی اونچی اڑان جاری ہے۔ ایک روپے 50پیسے اضافے سے 187 روپے 50 پیسے پر بند ہوا ہے۔گزشتہ روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر 186 روپے پر بند ہوا تھا۔
ادھر پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مسلسل تیسرے روز بھی مندی کے ڈیرے رہے۔بدھ کو دن بھر شدید اتار چڑھاؤ کے بعد مارکیٹ اختتام کے وقت 46ہزار کی نفسیاتی حد بھی گنوا بیٹھی۔ 390 پوائنٹس کی کمی کے بعد ہنڈرڈ انڈیکس45ہزار943 کی سطح پر بند ہوا۔









