دوست ممالک مدد کو آگئے، پاکستان میں خوردنی تیل کا بحران ٹل گیا

پاکستان اور انڈونیشین حکومت کے درمیان خوردنی تیل کی ڈیل فائنل ، برادر اسلامی ملک سے 30 میٹرک ٹن کا پہلا بحری جہاز روانہ ہوگیا۔

مہنگائی سے پریشانی عوام کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے دو دنوں میں دو بڑی خوشخبریاں ، پیر کے روز وفاقی حکومت نے یوٹیلیٹی اسٹورز پر گھی کی قیمتوں میں 250 روپے فی کلو کمی کا اعلان کیا تھا جبکہ آج (منگل) کے روز پاکستانی حکومت اور انڈونیشیا کے درمیان خوردنی تیل کی ڈیل فائنل ہو گئی ہے جس کے تحت برادر اسلامی ملک انڈونیشیا سے 30 ہزار میٹرک ٹن کا خودنی تیل لے کر پہلا بحری جہاز پاکستان کے لیے روانہ ہوگیا ہے۔

پام آئیل کی قلت اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے حوالے سے حکومتی کوششیں رنگ لائیں اور انڈونیشیا نے پاکستان کو کو وافر مقدار میں خوردنی تیل فراہم کرنے پر رضا مندی ظاہر کی جس کے تحت نہ صرف انڈونیشیا بلکہ ملائیشیا سے بھی خوردنی تیل سے بھرے 10 بحری جہاز آئندہ 2 ہفتوں میں پاکستان پہنچیں گے۔

یہ بھی پڑ ھیے

بھاری ٹیکسز کے باوجود آئی ایم ایف پاکستانی بجٹ سے غیرمطمئن، ماہرین

زیروریٹڈ انڈسٹریز کے لیے بجٹ میں 20 ارب روپے مختص، مقامی انڈسٹری کو ہری جھنڈی

وزیر اعظم شہباز شریف نے 10 جون کو انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو سے ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی، جس کے بعد پاکستانی وفد نے انڈونیشیا کا دورہ کیا اور وزارت تجارت سے کامیاب مذاکرات کئے تھے۔ جس کے نتیجے میں انڈونیشیا مجموعی طور پر ڈھائی لاکھ میٹرک ٹن خوردنی تیل پاکستان کو فراہم کرے گا۔

پاکستانی وفد کی درخواست پر انڈونیشیا کی وزارت تجارت نے تمام متعلقہ امور کو تیزی سے نمٹایا، جس کے بعد 30 ہزار میٹرک ٹن خوردنی تیل سے بھرا پہلا بحری جہاز آج پاکستان کے لیے روانہ کردیا گیا۔

انڈونیشیا کا دورہ کرنے والے وفد میں پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین طارق اللہ صوفی اور تنظیم کے رکن رشید جان محمد بھی شامل تھے۔

پام آئل دنیا بھر میں سب سے زیادہ پیدا، استعمال اور برآمد کیا جانے والا خوردنی تیل ہے۔

پاکستان میں گزشتہ چند ماہ کے دوران خوردنی تیل کی قیمت تیزی سے بڑھ رہی تھی جس کی وجوہات میں روس یوکرین جنگ اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی گرتی ہوئی قیمت بھی شامل تھی تاہم ایک اور اہم وجہ پام آئل برآمد کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ملک انڈونیشیا کی جانب سے چند ماہ قبل پام آئیل کی برآمد پر پابندی کا نفاذ تھا جس نے خوردنی تیل کی عالمی مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا۔

انڈونیشیا کا کہنا تھاکہ یہ فیصلہ خوردنی تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی روک تھام کے لیے کیا گیا۔ روس اور یوکرین دنیا میں سب سے زیادہ سورج مکھی کا تیل پیدا کرتے ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کے باعث کوکنگ آئل کی قیمتیں کئی گنا بڑھ گئیں۔

امریکی محکمہ زراعت کے مطابق انڈونیشیا نے 2021 میں پام آئل کی عالمی پیداوار کا 59 فیصد اور ملائیشیا نے 25 فیصد پیدا کیا جبکہ او ای سی کے 2020 تک کے ڈیٹا کے مطابق پاکستان نے 2.15 ارب ڈالر کا پام آئل درآمد کیا جس میں سے 1.6 ارب ڈالر مالیت کا تیل انڈونیشیا سے آیا۔

پاکستان کریڈٹ ریٹنگز ایجنسی (پارکا) کے مطابق سنہ 2021 میں پاکستان نے کُل ساڑھے 34 لاکھ میٹرک ٹن پام آئل درآمد کیا۔ امریکی محکمہ زراعت کے مطابق پاکستان دنیا میں پام آئل کی درآمد کا چوتھا بڑا ملک ہے جبکہ پہلے نمبر پر بالترتیب انڈیا، چین اور یورپی ممالک ہیں۔

اسی طرح پارکا کے مطابق پاکستان میں اپنی مقامی ضروریات کا صرف تقریباً 26 فیصد خوردنی تیل خود پیدا کرتا ہے جبکہ باقی سارا تیل دوسرے ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے۔

وفاقی وزیر مریم اورنگزیب کی پریس کانفرنس کا خلاصہ 

یاد رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے موجودہ حکومت کی جانب سے گھی کی قیمتوں میں 250 روپے کی بڑی کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر کے تمام یوٹیلٹی اسٹورز پر گھی 300 روپے فی کلو میں دستیاب ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ سستا آٹا اسکیم کے تحت ملک بھر میں یوٹیلٹی اسٹورز پر 10 کلو آٹے کا تھیلا 400 روپے میں فراہم کیا جا رہا ہے، 2018ء میں آٹے کی قیمت 35 روپے فی کلو تھی جو پچھلے چار سال کے دوران 90 روپے سے 100 روپے فی کلو اور گھی 550 روپے سے 600 روپے فی کلو فروخت ہوتا رہا۔

انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت نے چار سال میں مافیا اور کارٹلز کی جیبیں بھریں، عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیسا گیا، یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت عوام کو مہنگائی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لئے سبسڈی اور ریلیف دینے کے اقدامات کر رہی ہے۔

مریم اورنگزیب کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم کی سستا آٹا سکیم کے بعد ملک میں سستا گھی اسکیم شروع کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یکم جون 2022ء سے خیبر پختونخوا میں یوٹیلٹی اسٹورز کے ذریعے آٹے کی قیمت 400 روپے فی 10 کلو گرام فراہم کرنے کا منصوبہ شروع ہوا۔ خیبر پختونخوا میں یوٹیلٹی سٹورز کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے وہاں 6 جون 2022ء سے 100 موبائل یوٹیلٹی اسٹورز کے یونٹ شامل کئے گئے جن کے ذریعے خیبر پختونخوا کے لوگوں کو سستا آٹا فراہم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 9 جون کو فوری طور پر یوٹیلٹی اسٹورز کے اضافی 500 پوائنٹس آٹے کی ترسیل کے لئے مختص کئے گئے۔ آج ان میں مزید 100 پوائنٹس شامل کئے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس طرح تقریباً 700 موبائل وینز اور 600 پوائنٹس پر آٹا کا 10 کلو گرام کا تھیلا 400 روپے میں فراہم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت تک 600 سیلز پوائنٹس پر 2 لاکھ 62 ہزار 434 آٹے کے 10 کلو کے بیگ تقسیم کئے جا چکے ہیں۔

متعلقہ تحاریر