حکومت کا سناروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا احسن اقدام
حکومت جیولرز شاپس پر پوائنٹ آف سیلز مشینیں لگواکر 29 ہزار سناروں کو سیلز ٹیکس میں لائیں گی۔
ملک بھر میں 29 ہزار سناروں کو سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ہونا پڑے گا، اور اس مقصد کے لیے پوائنٹ آف سیلز مشینیں لگانا پڑیں گی۔
ملک بھر کے سناروں نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کے فنانس بل کا صفحہ 12 اور اس میں سیلز ٹیکس کی شق 43۔اے کے رولز میں جی اے کو پڑھ کر سر پکڑ لیے۔ کیونکہ یہ سیلز ٹیکس ان کے خلاف سناروں نے ہی لگوایا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
نیپرا کا کراچی والوں کو ایک اور جھٹکا، فی یونٹ بجلی 5 روپے 28 پیسے مہنگی کردی
دوست ممالک مدد کو آگئے، پاکستان میں خوردنی تیل کا بحران ٹل گیا
ملک بھر میں سونے کے بڑے برانڈز اور رجسٹرڈ جیولرز نے چھوٹے سناروں کو سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ کرنے کی تجویز دی جوکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے منظور کرتے ہوئے، بجٹ کے فنانس بل میں شامل کردی ہے۔
اس شق کے تحت ملک میں بھر تمام سناروں کی رجسٹرڈ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس شق کے تحت سناروں کو سیلز ٹیکس کی ٹیئر ون میں شامل کیا جائے گا، اس سلسلے میں ٹیئر ون سے سنار سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ہونے کے پابند ہوں گے۔
ملک بھر کے سنار اب سیلز ٹیکس کی پوائنٹ آف سیلز مشین لگانے کے پابند بھی ہوں گے۔ سناروں پر 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
ٹیکس حکام کے مطابق ملک بھر میں 29 ہزار سناروں پر سیلز ٹیکس عائد ہوگا، ملک میں صرف 22 جیولرز سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ہیں۔
یہ رجسٹرڈ اور برانڈڈ جیولرز ہی زیورات پر سیلز ٹیکس دیتے ہیں، اور انہوں نے ہی ایف بی آر کو تجویز دی ہے کہ چھوٹے سناروں پر بھی سیلز ٹیکس عائد کیا جائے اور انہیں ٹیئر ون میں شامل کیا جائے گا۔
کیونکہ غیر رجسٹرڈ سنار سیلز ٹیکس کی چھوٹ سے مقابلے فضا کو خراب کرتے ہیں، اور غیر رجسٹرڈ سناروں کے زیورات برانڈڈ جیولرز سے 17 فیصد سستے ہوتے ہیں اور ان کی سیلز متاثر ہو رہی ہیں۔
ٹیکس حکام کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں کتنا سیلز ٹیکس جمع ہوگا اس بارے میں ابھی کوئی ورکنگ نہیں کی گئی، اسی لیے اس سے شامل ہونے والا سیلز ٹیکس بجٹ کی آمدن میں شامل نہیں کیا گیا۔









