نئی حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں ناکامی کی جانب گامزن ہے، عزیر یونس

ماہر معاشیات اور امریکی تھنک ٹینک کا کہنا ہے پاکستان کا معاشی بحران سے باہر نکلنے کا واحد راستہ آئی ایم ایف کے ڈیل میں ہے ، جس میں ایک دن کی بھی تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔

پاکستانی کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال اور آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو قرضے کی فراہمی میں تاخیر پر ماہر معاشیات اور اٹلانٹک سینٹر آف امریکا کے تھنک ٹینک عزیر یونس نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

روپے کی گرتی ہوئی قدر اور ملک میں ڈالر کی کمی پر تبصرہ کرتے ہوئے عزیر یونس نے کہا ہے کہ ماہرین مارکیٹ ایک عرصے سے بحران کی شدت کی نشاندہی کر رہے ہیں، جبکہ حکومت جواب دینے میں ناکام ہے۔

یہ بھی پڑھیے

گیارہ ماہ میں ایک ارب 59 کروڑ ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری ہوئی، اسٹیٹ بینک

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک مکمل تھریڈ لکھتے ہوئے ماہر معاشیات عزیر یونس نے لکھا ہے کہ "ہم میں سے بہت سے لوگ کئی ہفتوں سے اس بات کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کو دوبارہ پٹری پر لانے کے لیے مذاکرات کی ایک بہت تنگ کھڑکی ہے۔”

انہوں نے لکھا ہے کہ "آئی ایم ایف کے پروگرام کے بغیر بحران تیزی سے بدل جائے گا۔ اور موجودہ صورتحال میں ایسا لگتا ہے کہ بالکل ایسا ہی ہو رہا ہے۔”

عزیر یونس نے مزید لکھا ہے کہ "اس (بحران سے) باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے جب تک کہ آئی ایم ایف پروگرام دوبارہ پٹری پر نہ آجائے۔ اور یہ آج ہی ہونے کی ضرورت ہے، آج سے کچھ دن مزید نہیں!۔”

انہوں نے لکھا ہے کہ ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے سبب ایل سیز کو پہلے ہی مسترد کیا جارہا ہے۔”

امپورٹ کی صورتحال پر تشویش کرتے ہوئے امریکی تھنک ٹینک نے لکھا ہے کہ "یہ آنے والے ہفتوں میں سامان کی سپلائی کی قلت کا باعث بنے گا، جس سے مارکیٹوں میں مزید خوف و ہراس پھیلے گا۔”

ماہر معاشیات عزیر یونس نے لکھا ہے کہ "جیسے ہی مارکیٹ بیٹھے گی سخت دل ذہنیت والے (منافع خور) اس میں آبیٹھیں گے۔ میرا مطلب ایک ایسے بحران سے ہے جو تیزی سے طوفان میں تبدیل ہو جاتا ہے۔”

اس ساری صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی بینکوں میں زرمبادلہ کے ذخائر کی انتہائی کمی واقع ہو گئی ہے ، اور تو اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں حالیہ مہینوں میں 42 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جس سے موجودہ قرضوں کے تناسب میں بے انتہا اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا ہے پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال کی سنگینی سے کون واقف نہیں۔ ہم میں سے کچھ لوگ اب بھی الزام تراشی کی گندی سیاست میں مصروف ہیں۔ اگر حکومت نے ابھی بھی ہوش کے ناخن نہ لیئے تو بہت دیر ہو جائے گا۔ حکومت عدم تحفظ کا شکار ہے اور بظاہر ایسے جرات مندانہ فیصلے نہیں کر رہی جن کو سیاست سے بالاتر ہونا ضروری ہے۔

متعلقہ تحاریر