کارپوریٹ سیکٹر پر زیادہ ٹیکس لگانے سے صنعتوں کی گروتھ رک جائے گی، اسد علی شاہ

واضح رہے کہ جمعہ کے روز وزیراعظم کی جانب سے بڑی صنعتوں پر سپرٹیکس کے نفاذ اعلان کے ساتھ ہی اسٹاک ایکسچینج کریش کر گئی تھی۔

سابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے صاحبزادے اسد علی شاہ نے کہنا ہے کارپوریٹ سیکٹر پر ضرورت سے زیادہ ٹیکس لگانے سے ان صنعتوں کی گروتھ رک جائے گی۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ سندھ کے صاحبزادے اسد علی شاہ نے لکھا ہے کہ "زیادہ منافع کمانے والے کارپوریٹ سیکٹر پر ضرورت سے زیادہ ٹیکس لگانا اصل میں امیروں پر ٹیکس لگانے کے مترادف نہیں ہے۔”

یہ بھی پڑھیے

کراچی والوں کیلئے بری خبر ، بجلی 5روپے 27پیسے فی یونٹ مہنگی

غیرملکی امداد پر چلنے والے 43 فیصد منصوبے تاخیر کا شکار

پاکستان بزنس کونسل اور وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو ٹیگ کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ "پیداوار دینے والے اداروں پر ضرورت سے زیادہ ٹیکس لگانے سے اداروں کی پیداواری صلاحیت رک جائے گی۔ یہ وہ ادارے ہیں جو وفاق اور صوبائی حکومتوں کو جی ڈی پی کا 22 فیصد دیتے ہیں۔”

معروف سماجی کارکن اور وی لاگر اویناش ایڈوانی نے اسد علی شاہ ، مفتاح اسماعیل اور پاکستان بزنس کونسل کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” مجھے یقین ہے کہ وزیر اپنا دماغ استعمال نہیں کر رہے ہیں- وہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت صرف اعلیٰ طبقے کے لیے ٹیکس لگانے کا ارادہ رکھتی ہے لیکن وہ نہیں جانتے کہ یہ اعلیٰ طبقہ بلڈرز ہیں اور وہ اپنے گاہکوں سے پیسے لیتے ہیں – کیونکہ ان کا براہ راست تعلق ہے ان سے۔”

معروف بزنس مین فہیم نے مفتاح اسماعیل ، اسد علی شاہ اور پاکستان بزنس کونسل کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "اگر حکومت بڑی صنعتوں کی آمدنی پر 100 فیصد بھی ٹیکس عائد کردے تب بھی یہ ایک دن کے لیے کافی نہیں ہوگا۔ جب تک آپ 95 فیصد ٹیکس ادا نہ کرنے والی آبادی پر ٹیکس نہیں لگائیں گے۔”

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ "صرف 1000 روپے فی شخص کم از کم ٹیکس لگا دیا جائے تو سالانہ 2.7 ٹریلین روپے حاصل ہوں گے۔”

یاد رہے کہ جمعہ کے روز وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی جانب سے ملک کے 13 بڑے صنعتوں یونٹس پر 10 فیصد سپرٹیکس کے نفاذ کے اعلان کے ساتھ ہی پاکستان اسٹاک ایکسچینج کریش گئی تھی ، اور دوران ٹریڈنگ 100 انڈیکس 2000 سے زائد پوائنٹس لوز کرگیا تھا۔

متعلقہ تحاریر