شوگر مافیا پھر سرگرم، ن لیگ کی حکومت سے چینی برآمد کی اجازت مانگ لی
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کی تجویز سے شوگر مافیا کے لیے چینی کے ذخائر بیرون ممالک برآمد کرنے کے دروازے کھل جائیں گے۔
ملک میں شوگر مافیا ایک بار پھر متحرک ہو گیا ہے ، شوگر ملز ایسوسی ایشن نے پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل ن) کی حکومت سے فاضل چینی کی برآمدات کی اجازت دینے کی اپیل کی ہے۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ ہم اس وقت اضافی چینی کو برآمد کرکے 1 بلین ڈالر کما سکتے ہیں ، جبکہ ڈالر کی اس وقت ملک میں سب سے زیادہ مانگ ہے۔
یہ بھی پڑھیے
پی ایس ایکس میں مندی، 100 انڈیکس میں 112.95 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان اس وقت ڈالر کو بچانے اور کمانے کے لیے قرض لینے کے ذرائع بھی استعمال کررہا ہے ۔
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اس پاکستان میں چینی ملکی کھپت سے زائد چینی سرپلس میں پڑی ہے ، جس کی دنیا میں اس وقت ایک زبردست برآمدی قیمت بھی مل رہی ہے۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پاکستان کو فوری طور پر چینی کے اس خزانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جو اس وقت ملکی ضرورت سے بھی زیادہ ہے ، اور ہم اس کی ایکسپورٹ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
ایسوسی ایشن کا ہے یہ ایک سنہری موقع ہے اس سے پہلے کے دیر ہو جائے ، کیونکہ بین الاقوامی مارکیٹ پر ایکسپورٹ پہلے ہی سے قبضہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے اس زائد چینی کی ایکسپورٹ سے سے گنے کے کاشتکاروں، شوگر ملز اور مقامی مارکیٹ کو موجودہ اور مستقبل کے سیزن میں بڑے نقصان سے بچایا جائے گا۔
ان کا کہنا ہے حکومت شوگر انڈسٹری اور گنے کے کاشتکاروں کو آنے والے بحران سے بچانے کے لیے چینی ایکسپورٹ کی اجازت دی جائے۔
ترجمان شوگر ملز ایسوسی ایشن
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان شوگر ملز ایسویشن کے ترجمان نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ رواں سیزن میں ملک کے اندر چینی کی پیداوار 75 لاکھ 10ہزار ٹن ہوئی ہے جوکہ ایک ریکارڈ ہے۔
ترجمان نے اپنے بیان مزید کہا تھا کہ گزشتہ سال پاکستان میں چینی کی پیداوار 56 لاکھ 30 ہزار ٹن ہوئی تھی جبکہ پاکستان میں چینی کی کھپت 60 لاکھ ٹن ہے۔ اس اس فرق کو پورا کرنے کیلئے حکومت نے چینی باہر سے امپورٹ کرائی تھی ، سیلز ٹیکس اور دیگر ٹیکسز نہ ہونے کی وجہ سے حکومت پاکستان کو ٹیکسز میں مد میں نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔ اور کسانوں کو بھی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔
معاشی ماہرین کا تجزیہ
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کی تجویز سے شوگر مافیا کے لیے چینی کے ذخائر بیرون ممالک برآمد کرنے کے دروازے کھل جائیں گے جس سے ہماری مارکیٹوں میں مصنوعی قلت پیدا ہو جائے گی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی کا وہی ذخیرہ ایک بار پھر پاکستان میں سب سے زیادہ قیمتوں کے ساتھ درآمد کیا جائے گا جیسا کہ ماضی میں شوگر مافیا کرتا تھا۔
گزشتہ سے پیوستہ
اپریل 2020 میں، ملک میں چینی اور گندم کے بحران سے متعلق دو انتہائی اہم رپورٹس منظر عام پر آئی تھیں ، جس میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے بڑے رہنما جہانگیر ترین اور اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں سمیت وفاقی وزیر برائے فوڈ اینڈ سیکیورٹی خسرو بختیار اور مونس الٰہی کو بے نقاب کیا گیا تھا۔
یہ رپورٹس سابق وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر منظر عام پر لائی گئیں جنہوں نے بحرانوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا تھا۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل واجد ضیاء کی سربراہی میں قائم انکوائری کمیٹی نے رپورٹس تیار تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ کسی طرح نے شوگر مافیا نے ایکسپورٹر اور امپورٹرز کے ساتھ مل کر اربوں روپے کا منافع کمایا تھا۔









