حکومت ایل این جی بحران سے نمٹنے سے لاعلم ہے، رپورٹ

پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل-این) کی زیر قیادت مخلوط حکومت ایل این جی کے بحران سے نمٹنے کے بارے میں لاعلم ہے ۔

پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل ن) کی زیر قیادت مخلوط حکومت ایل این جی کے بحران سے نمٹنے کے بارے میں بے خبر ہے جبکہ یہ خیال زور پکڑ رہا ہے کہ موسم سرما میں صورتحال مزید خراب ہو جائے گی۔

پاکستانی میڈیا میں کچھ لوگوں نے پچھلے کچھ سالوں سے ایک مشہور ٹیکنیک حکومت کو دی  تھی کہ اگر ایل این جی خریدنی ہے تو گرمیوں کے موسم میں دیر سے خریدیں اور سردیوں کے موسم میں جلدیں۔ یہ وہ نقطہ جو آج بھی سُچے موتیاں کی طرح چمک رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان ان ایک درجن ریاستوں میں شامل ہے جو ڈیفالٹ کرسکتی ہے، رائٹرز

شہباز شریف حکومت میں مہنگائی کی شرح میں 33 فیصد اضافہ ریکارڈ

اس سال موسم گرما میں حکومت نے 500 ملین ڈالر کے نقصان سے ایل این جی کے 9 کارگوز خریدے تھے ، جبکہ اس مرتبہ 10 کارگوز کا ٹینڈر دیا گیا تھا مگر ایک بھی نہیں خریدا گیا۔ کیا ہمارے فصلہ ساز اب سردیوں کے لیے جلد خریدنے کی کوشش کریں گے؟ یا وہ بھول گئے ہیں، اور اگر انہیں یاد ہے تو کیا ٹی وی شوز میں ان کے ساتھ ایل این جی 101 ہوگا؟

ایک انگریزی روزنامہ بزنس ریکارڈر نے اپنی تحقیق کی بنیاد پر رپورٹ تیار کی ہے۔ اس میں اس بات کی یاددہانی کرائی گئی ہے کہ ہمارے فیصلہ ساز کتنے غیرمقبول فیصلے کرتے ہیں، خاص طور پر جب میڈیا بیانیہ اور سیاسی انجینئرنگ کے لیے فیصلے کیے جاتے ہیں، تو نتائج عام طور پر سب سے بہتر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر حکومت نے 10 ایل این جی کارگوز کو ٹینڈر کیا مگر شرمندگی کے سوا کچھ نہیں ملا۔ اور وہ بھی اس سے پہلے کہ حکام کسی بین الاقوامی ایل این جی سپلائر سے اضافی ایل این جی مانگنے کے لیے جاتے۔

کیا ٹینڈر میں جانے سے پہلے یہ دیکھنے کی ضرورت نہیں تھی کہ مارکیٹ اس وقت کہاں کھڑی تھی؟ اگر حکام نے چند دن پہلے ایک کارگو 39 ڈالر کم پر خریدنے  سےانکار کردیا تھا ، تو وہ ملک متبادل بولی کیسے قبول کرے گا جب مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمت میں 10 فیصد اضافہ ہوگیا ہے؟ اس فیصلے کے پیچھے کیا سوچ تھی؟

جیسا کہ پہلے اشارہ کیا گیا تھا کہ مارکیٹ کی پیشن گوئی کرنے کے لیے کوئی خاص سائنس موجود نہیں ہے، حکومت کے ہاتھ میں موجود چیزوں کو کنٹرول کرنے کے لیے قابلیت کی ایک خاص سطح کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت کرنے کے لیے حکمت عملی تیار کرنے کے لیے کچھ ہوم ورک کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ وہ وقت ہے کہ حکومت پیچھے مڑ کر دیکھیں اور کچھ پچھلی غلطیوں سے سبق سیکھیں اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ بیٹھ کر مستقبل کے لیے عقل کے ساتھ عملی حکمت عملی تیار کریں۔

تاریخی تناظر سے شروع کرتے ہیں- پاکستان کے پاس 8 طویل مدتی ایل این جی کارگوز ہیں۔ پاکستان نے کئی مہینے تک اسی ایل این جی پر گزراکیا۔ تو پھر حالات ایک سال پہلے کے مقابلے میں بہت خراب کیوں ہوئے؟ کیا یہ اسٹیئرنگ وہیل پر نئے ڈرائیور کی نااہلی کی وجہ سے ہے یا چوری میں اضافے کی وجہ سے ہے؟

اس کو عقلی طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آپ نے گیس کو استعمال تو کیا مگر اس کا حساب نہیں رکھا ، جبکہ اس حوالے سے افواہیں پھیل رہی ہیں کہ گزشتہ چند ہفتوں میں گیس کا استعمال بغیر حساب کتاب کے کیا گیا، جبکہ پابندی کے  باوجود کچھ اسٹیشنوں پر سی این جی دستیاب تھی۔

دوسرا مستقبل کو دیکھتے ہوئے ، سب کچھ جاننے کا دعویٰ کیے بغیر، یہ خیال کرنا مناسب تھا کہ موسم سرما میں صورتحال مزید خراب ہو جائے گی۔ یورپ کا Nordstream 1 سالانہ مینٹیننس کی وجہ سے بند پڑا ہے ، جس کی وجہ سے ایل این جی کو موسم سرما کے لیے اسٹوریج کرنے کی یورپی کوششوں کو بڑا دھچکا پہنچ رہا ہے۔ یورپ، جاپان، چین اور کوریا سب سردیوں سے قبل ایل این جی خریداری پر لگ گئے ہیں ، کیونکہ، سردیوں میں قدرتی حرارت کے لیے گیس کا کوئی متبادل نہیں ہوتا۔ یہ سمجھنا مناسب ہوگا کہ اس ساری صورتحال کو سب سے زیادہ روسی صدر پیوٹن دیکھ رہے ہوں گے اور انہیں پتا ہے اس صورتحال میں گیس کارڈ کیسے کھیلنا ہے ۔

سوال یہ ہے کہ پاکستان کے لیے اس میں کیا مطلب پوشیدہ ہے؟ ایک، گیس کی دستیابی ایک چیلنج ہو گی۔ دوسرا، درآمدی گیس ممکنہ طور پر ناقابل برداشت ہوگی۔ پھر ایل این جی کی زیادہ درآمد سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے مسائل ہوں گے۔ اور برآمدی شعبے کو کس طرح اور کس قیمت پر ایل این جی سہولت فراہم کی جائے گی؟

گیس کا راشن دینا پڑے گا۔ سٹوریج کا انتظام احتیاط سے کرنا ہو گا – پاکستان میں موجودہ لائن پیک اور ایل این جی ٹرمینل کو 5 دنوں سے کہیں زیادہ جگہ دینی ہو گی۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ وزارت منصوبہ بندی کی طرف سے تیار کردہ کاغذ پر صرف نظر ڈالنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وزارت اس بات سے بے خبر ہے کہ وہ ان مسائل کو کس طرح سنبھالے گی۔ اور ان کی حمایت وزیر مملکت برائے توانائی کر رہے ہیں جو مستقبل کا حل تلاش کرنے کی بجائے پی ٹی آئی حکومت پر تنقید کرنے میں زیادہ وقت گزار رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت مکھن چھری سے بندوق کی لڑائی کی طرف جا رہی ہے۔

پاکستان کی ایل این جی کی درخواست

معروف امریکی جریدے بلومبرگ نے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان میں توانائی کا بحران مہینوں تک جاری رہے گا ، پاکستان نے ایل این جی کارگوز کی خریداری کے ایک بلین ڈالر کے ٹینڈر جاری کیے تھے مگر کہیں سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ایک غیر معمولی پیش رفت کے باوجود پاکستان کو مائع قدرتی گیس کی خریداری کے ٹینڈر میں ایک بھی پیشکش موصول نہیں ہوئی۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے ملک میں جاری اقتصادی بحران اور عالمی سطح پر ایندھن کی بڑھتی ہوئی  قلت نے سپلائرز کو ہچکچاہٹ میں مبتلا کردیا ہے۔

تقریباً چار ماہ سے پاکستان مسلسل لوڈشیڈنگ کے مسائل سے دوچار ہے، جبکہ اب ایل این جی کا ٹینڈر بھی حاصل کرنے میں پاکستان ناکام ہے۔ پاکستان جیسے نسبتاً غریب ممالک توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے ایل این جی پر انحصار کرتے ہیں۔ افراط زر کی شرح 20 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ مالیاتی بچاؤ پیکج پر بات چیت کر رہی ہے۔

روس سے امریکہ کو سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پہلے سے ہی بلند ہونے والی ایشیائی گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔

یورپ بلواسطہ طور پر ایل این جی خریدنے کی کوششوں میں مصروف ہے ، عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کے باوجود خریدار زیادہ ادائیگی کرنے کو تیار ہیں۔ تھائی لینڈ اور بھارت بھی زیادہ قیمتوں کی وجہ سے خریداری روک رہے ہیں، لیکن وہ پاکستان کی طرح خطرناک صورتحال میں نہیں ہیں۔

متعلقہ تحاریر