حکومت نے گھٹنے ٹیکتے ہوئے آئی ایم ایف کی مشکل شرائط پر سرتسلیم خم کرلیا

ایل او آئی کی خفیہ دستاویز کے مطابق پاکستان تیل اور بجلی پردی گئی تمام سبسڈیز کو ختم کرے گا جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا جائے گا

پاکستان نے آئی ایم ایف کے سامنے گٹھنے ٹیکتے ہوئے پہلے سے زیادہ مشکل شرائط تسلیم کرلی۔ حکومت نے ایل او آئی میں ستائیس نکاتی ایکشن پلان پرعملدرآمد کی یقین دہانی کروا دی ہے ۔

پاکستان نے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی مشکل ترین شرائط  پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔ ایل او آئی کی خفیہ دستاویز کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کو ستائیس نکاتی ایکشن پلان پر عملدرآمد کی یقین دہانی کروا دی ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

آئی ایم ایف نے ہماری ایک نہیں مانی ، مفتاح اسماعیل کا اعتراف

حکومت نے لیٹر آف انٹینٹ میں آئی ایم ایف کو یقین دہانی کروائی ہے کہ ڈالر کی قدر کا تعین مارکیٹ بیس ہوگا۔ پاکستان تیل اور بجلی پر دی گئی تمام سبسڈیز کو ختم کرے گا۔

آئی ایم ایف کی شرط پر پٹرولیم مصنوعات پر ڈویلپمینٹ لیوی کی شرح میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا۔ پاکستان بجلی کے بنیادی نرخوں اور گیس کے نرخوں میں میں اضافہ کرے گا۔

حکومت نے  آئی ایم ایف کو یقین دہانی کروائی ہے کہ ایف اے ٹی ایف شرط کے مطابق اینٹی منی لانڈرنگ فریم ورک پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

لیٹر آف انٹینٹ میں کہا گیا ہے کہ درآمدی اشیا پر پابندی پر نظرثانی جنوری 2023 میں صورتحال دیکھنے کے بعد ہو سکے گی جبکہ خسارے میں چلنے والے اداروں میں گورننس اور شفافیت کا نظام وضع کیا جائے گا۔

حکومت نے انٹر نیشنل  مانیٹری فنڈ  کے حکام کو یقین دہانی کروائی ہے کہ گردشی قرضوں کو کنٹرول کرنے کیلئے مانیٹرنگ اور ادائیگیوں کا نظام بہتر کیا جائے گا۔

متعلقہ تحاریر