ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مسلسل پانچویں روز کمی

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق روپے کی قدر میں 0.57 فیصد کمی ہوئی ، اس طرح روپے کے مقابلے میں انٹربینک میں ڈالر 220.66 روپے پر بند ہوا۔

امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کاروباری ہفتے میں مسلسل پانچویں روز بھی جاری رہی۔

آج کے سیشن کے اختتام پر، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق روپے کی قدر میں 0.57 فیصد کمی ہوئی ، اس طرح روپے کے مقابلے میں انٹربینک میں ڈالر 220.66 روپے پر بند ہوا۔

یہ بھی پڑھیے

قومی ایئر لائن پی آئی اے کو چھ ماہ میں 42 ارب روپے کا نقصان

سعودی فرمانروا شاہ سلمان کا پاکستان میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کاحکم

ان اطلاعات کے باوجود کہ قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی (کیو آئی اے) پاکستان میں 3 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، پاکستانی روپے کا زوال جاری رہا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی نے جمعرات کو رپورٹ کیا تھا کہ سعودی فرماروا شاہ سلمان نے اپنے ملک کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں ایک بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہدایت جاری کی تھیں۔

معاشی ماہرین بیرون سرمایہ کے اعلانات کے باوجود یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ملک میں جاری سیاسی کشمکش روپے کی قدر میں کمی کی اصل وجہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں آئے گا معاشی استحکام نہیں آسکتا۔

تاہم، بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ روپے کی قدر میں کمی ایک عارضی رجحان ہے، کیونکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) سے آنے والی رقوم اور قطر سے آنے والی رقم پاکستان روپے کی قدر کو مضبوط کردے گی۔

مئی میں امپورٹ پر پابندی کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جولائی میں کم ہو کر 44.6 فیصد رہ گیا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بدھ کو اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جولائی میں 44.6 فیصد کم ہو کر 1.21 بلین ڈالر تک پہنچ گیا، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بدھ کو رپورٹ کیا۔

مرکزی بینک کی جانب سے ادائیگیوں کے توازن پر ماہانہ رپورٹ شائع کی گئی ہے، ماہ بہ ماہ کی بنیاد پر، مالی سال 2023 کے پہلے مہینے کے دوران درآمدات اور برآمدات کے درمیان فرق میں 44.6 فیصد کی کمی ہوئی اور 1.21 بلین ڈالر تک گر گئی۔ مالی سال 22 کے جون میں 2.187 بلین ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔

تاہم سال بہ سال کی بنیاد پر جولائی میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوکر 359 ملین ڈالر رہا جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ خسارہ 851 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔

متعلقہ تحاریر