حکومت نے آئی ایم ایف کی خوشامد میں عوام کو پٹرول ریلیف سے محروم کردیا

حکومتی فیصلے کے بعد پیٹرول پر لیوی 20 روپے سے بڑھا کر فی لیٹر 37 روپے 50 پیسے کردی گئی ہے۔

وفاقی حکومت کا بے رحمانہ فیصلہ ، پٹرول پر لیوی 10 کی بجائے 17 روپے 50 پیسے بڑھا دی ، یوں پیٹرول کی قیمت میں عوام کو بڑے ریلیف سے محروم کردیا گیا۔

وفاقی حکومت آئی ایم ایف کی خوشنودی میں دو ہاتھ آگے نکل گئی، وفاقی حکومت کو آئی ایم ایف نے یکم ستمبر کو پٹرول پر لیوی 10 بڑھانے کی اجازت دی تھی لیکن وفاقی حکومت نے پیٹرول پر لیوی میں فی لیٹر 17 روپے 50 پیسے کا اضافہ کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بھارتی تاجر گوتم اڈانی دنیا کے تیسرے امیر ترین شخص بن گئے

پے پال کے سربراہ پیٹرل تھل کی پہلی مرتبہ پاکستانی کمپنی میں سرمایہ کاری

حکومتی فیصلے کے بعد پیٹرول پر لیوی 20 روپے سے بڑھا کر فی لیٹر 37 روپے 50 پیسے کردی گئی ہے۔

پیٹرول کے فی لیٹر پر پی ایس او ایکسچینج ایڈجسٹمنٹ میں 41 پیسے کا مزیر اضافہ کردیا گیا ہے۔

پیٹرول کے فی لیٹر پر پی ایس او ایکسچینج ایڈجسٹمنٹ 8 روپے 43 پیسے کردی گئی۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل کے فی لیٹر پر پی ایس او ایکسچنح ایڈجسٹمنٹ میں 2.24 روپے کا اضافہ کیا ہے۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل کے فی لیٹر پر پی ایس او ایکسچنح ایڈجسٹمنٹ میں 5.87 روپے کردی گئی ہے۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پٹرولیم لیوی میں 2 روپے 50 پیسے کی کمی کی گئی ہے۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی 10 سے کم کر کے 7 روپے 50 پیسے فی لیٹر کردی گئی۔

لائٹ ڈیزل اور مٹی کے تیل پر پیٹرولیم لیوی 10 روپے فی لیٹر برقرار رہے گی۔

پیٹرولیم مصنوعات پر پیٹرولیم لیوی کی نئی شرح کا اطلاق یکم ستمبر سے ہوگیا ہے۔

عوام پریشان ہیں کہ حکومت ان سے کونسا انتقام لے رہی ہے کہ ریلیف کے جو اقدامات حکومت کے بس میں ہیں حکومت وہ تھوڑا سا ریلیف بھی دینے کو تیار نہیں۔

متعلقہ تحاریر