اتحادیوں نے معیشت کا جنازہ نکال دیا،فچ کی شرح نمو 0.2فیصد رہنے کی پیشگوئی

جون 2022میں ختم ہونےو الے مالی سال  کے حوالے سے جاری  کردہ اقتصادی سروے میں حکومت نے اعتراف کیا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں شرح نمو6فیصد تھی۔  

پاکستان مسلم لیگ ن ، پاکستان پیپلزپارٹی اور اتحادی جماعتوں کی مخلوط حکومت نےمارچ تک 6 فیصد شرح نمو کی رفتار سے فراٹے بھرتی معیشت  کا جنازہ نکال دیا۔ عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ  نے موجودہ مالی سال 23-2022 میں شرح نمو صرف 0.2فیصد تک رہنے کی پیش گوئی کردی۔

واضح رہے کہ جون 2022میں ختم ہونےو الے مالی سال  کے حوالے سے جاری  کردہ اقتصادی سروے میں حکومت نے اعتراف کیا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں شرح نمو6فیصد تھی۔

یہ بھی پڑھیے

اے ڈی بی نے پاکستان کے لیے 1.5 بلین ڈالر قرض کی منظوری دے دی

امریکی ڈالر نایاب: اوپن مارکیٹ میں241 کا ڈالر 250 میں بھی نہیں مل پارہا 

عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ نے پاکستانی معیشت سے متعلق اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ مالی سال 2023 میں نمو نمایاں طور پر سست ہو جائے گی اور توقع ہے کہ گزشتہ مالی سال 6فیصد پر موجود شرح نمو رواں مالی سال 0.2فیصد تک گرسکتی ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں نےعالمی ریٹنگ ایجنسی کی رپورٹ کو اتحادی حکومت اور اس کے ہینڈلرز  کے منہ پر طمانچہ قرار دےدیا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جو سیاسی جماعتیں  پچھلے 4 سال ترقی کرتے پاکستان اور اسکی حکومت پر بلاوجہ تنقید کرتی رہیں انہوں نے معیشت کے ہر شعبے میں بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاسی عدم استحکام معیشت کی تباہی کی اہم ترین وجہ ہے، اتحادی حکومت تمام تر کوششوں کے باوجود مارکیٹ سے بےیقینی کے خاتمے میں ناکام رہی ہے ، یہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے باوجود روپے پر دباؤ برقرار ہے اور رہی سہی کسر ملکی تاریخ کے بدترین سیلاب نے پوری کردی ہے جس کے نتیجے میں سندھ میں کپاس سمیت 90 فیصد فصلیں تباہ ہوگئی ہیں جس کے اثرات آئندہ مہینوں میں مزید معاشی تباہی کی شکل میں سامنے آئیں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ معیشت کی بحالی کا واحد حل سیاسی استحکام ہے جو فوری عام انتخابات کے نتیجے میں ہی ممکن ہے۔موجودہ حکومت اور اس کے ہینڈلرز کو اپنی ضد اور انا چھوڑ کر ملک کا سوچنا چاہیے اور فوری عام انتخابات کا اعلان کرنا چاہیے۔

متعلقہ تحاریر