رواں مالی سال کے پہلے تین ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ میں 37 فیصد کمی

مرکزی بینک کے اعدادوشمار کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ  37 فیصد کم ہو کر 2.21 بلین ڈالر رہ گیا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ رواں مالی 2022-23 کی پہلی سہ ماہی کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 37 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

مرکزی بینک کی جانب سے بدھ کے روز جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ 37 فیصد کمی کے بعد خسارہ 2.21 بلین ڈالر رہ گیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ مالی سال کی اسی سہ ماہی میں ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 3.53 بلین ڈالر تھا۔

یہ بھی پڑھیے

کمشنر ایف بی آر سکھر سے اسمال ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

ارکان پارلیمنٹ کیلئے17 ارب روپے کی ضمنی گرانٹ کی منظوری دے دی گئی

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے بدھ کے روز رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے لیے ادائیگیوں کے توازن کی سمری جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی کو تجارتی خسارے میں نمایاں کمی کی وجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

اسٹیٹ بینک تجارتی خسارہ بھی رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران 21.32 فیصد کم ہو کر 9.22 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی سہ ماہی میں 11.72 ارب ڈالر کا خسارہ تھا۔

اعدادوشمار کے مطابق زیر جائزہ سہ ماہی کے لیے ملک کا درآمدی بل گزشتہ مالی سال کی اسی سہ ماہی میں 18.71 ارب ڈالر تھا جو 12.37 فیصد کم ہوکر 16.4 ارب ڈالر رہ گیا ہے۔

دوسری جانب رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے دوران ملکی برآمدات 2.62 فیصد اضافے سے 7.18 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 6.99 بلین ڈالر تھیں۔

تاہم، رواں مالی سال 2022-2023 کی پہلی سہ ماہی کے دوران گھریلو ترسیلات زر کی آمد 6.34 فیصد کم ہوکر 7.68 بلین ڈالر تک پہنچ گئی۔ ترسیلات زر کی آمد گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی میں 8.2 بلین ڈالر تھی۔

ادائیگی کے توازن میں ستمبر 2022 میں جاری کھاتوں کا خسارہ 31 کروڑ 60 لاکھ ڈالر رہا تھا ، اگست 2022 میں جاری کھاتوں کا خسارہ 67 کروڑ 60 لاکھ ڈالر رہا تھا ، جبکہ گزشتہ مالی سال جاری کھاتوں کا خسارہ 17 ارب 40 کروڑ ڈالر رہا تھا۔

متعلقہ تحاریر