پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید ترین مندی: 100 انڈیکس میں تقریباً 900 پوائنٹس کمی ریکارڈ
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی نئی مانیٹری پالیسی کے خلاف سخت ردعمل دیتے ہوئے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کاروبار کے دوران 2 فیصد گر گئی۔
کاروباری ہفتے کے پہلے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا بینچ مارک KSE-100 انڈیکس تقریباً 900 پوائنٹس گر گیا ، یہ ردعمل اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی جانب سے گزشتہ ہفتے شرح سود میں 100 بیسکس پوائنٹس میں اضافے کے اعلان بعد آیا ہے۔
بینچ مارک KSE-100 انڈیکس 865.3 پوائنٹس یا 2 فیصد سے زیادہ کی کمی کے بعد 42 ہزار 71.3 پوائنٹس پر بند ہوا۔
جمعے کے روز اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کی جانب سے کلیدی شرح سود میں 100bps کا اضافہ کرنے کے بعد، سرمایہ کاروں نے اس پیشرفت پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ 1998-1999 کے بعد یہ پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا کہ اسٹیٹ بینک نے شرح سود 16 فیصد کردی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اس اقدام پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید دھچکا لگا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
لیگی رہنما مفتاح اسماعیل نے ملک کے دیوالیہ ہونے کے خطرات کا انکشاف کردیا
آئی ایم ایف کے جائزہ وفد کا دورہ تاخیر کا شکار: پاکستان کے دیوالیہ ہونے کے خطرات بڑھ گئے
کلیدی شرح سود میں اضافے کی وجہ سے بڑھتے ہوئے مالیاتی اخراجات کو کنٹرول کرنا کمپنیز کے لیے ناممکن ہو جائے گا۔
شرح سود میں اضافے کے بعد تعمیرات ، آٹوموٹیو اور تیل کی صنعتوں کے تمام حصص سرخ لائن پر پہنچ گئے ، اور کاروبار کے دوران مارکیٹ زیادہ تر سرخ فیتے کے گرد گھومتی رہی۔
مانیٹری پالیسی کے اعلان سے قبل سروے کیے گئے مارکیٹ کے شرکاء کی اکثریت نے پیش گوئی کی تھی کہ مرکزی بینک شرح سود کو 15% پر برقرار رکھے گا۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کا فیصلہ اس نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے کہ افراط زر کے دباؤ کو کنٹرول کیا جاسکے۔ اس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مہنگائی میں اضافہ نہ ہو۔
جمعے کے روز تمام شیئر انڈیکس کا حجم 177.3 ملین سے بڑھ کر 244.4 ملین ہو گیا تھا۔ گزشتہ سیشن میں ریکارڈ کیے گئے حصص کی مالیت 6.1 ارب روپے سے بڑھ کر 7 ارب روپے ہوگئی تھی۔
دوران کاروبار کے الیکٹرک کے 29 ملین شیئر کے سودے ہوئے ، ورلڈ کال ٹیلی کام کے 22.5 ملین شیئرز کے سودے ہوئے جبکہ دیوان موٹرز 13.8 ملین شیئرز کے سودے ہوئے۔
کاروباری ہفتے کے پہلے روز 350 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 47 میں اضافہ، 294 میں کمی اور 9 کے حصص میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔









