سکوک بانڈز کی مد میں ایک ارب ڈالر کی ادائیگی ، ڈار صاحب اب بھی مضطرب ہیں
مرکزی بینک نے اپنے اعلان میں کہا ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے اعلان کے مطابق جمعے کے روز 1 ارب ڈالر کے سکوک بانڈز کی ادائیگی کو پورا کردیا ہے ۔ تاکہ قریب المدت ڈیفالٹ کے خطرے سے بچا جا سکے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان سکوک بانڈز کے پروفٹ کی مد میں 1 ارب ڈالر کی ادائیگی جمعے کے روز کردی ہے۔ یاد رہے کہ گذشتہ دونوں وفاقی وزیر خزانہ نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان سکوک بانڈز کی ادائیگیاں وقت پر کرے گا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ادائیگیاں تو وقت سے پہلے کردی ہیں مگر پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے ہمارے لیے بچا کیا ہے۔
مرکزی بینک نے اپنے اعلان میں کہا ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے اعلان کے مطابق جمعے کے روز 1 ارب ڈالر کے سکوک بانڈز کی ادائیگی کو پورا کردیا ہے ۔ تاکہ قریب المدت ڈیفالٹ کے خطرے سے بچا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے
سعودی عرب نے 3 ارب ڈالر کے ڈیپازٹ کی مدت میں توسیع کردی
ملکی زرمبادلہ کے ذخائر مزیدکم، درآمدات و برآمدات بھی مشکلات کا شکار
معاشی ماہرین اس ادائیگی سے طویل مدتی قرض کی ادائیگی کی صلاحیت پر تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترجمان عابد قمر نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک نے سکوک بانڈز کے لیے رقم 5 دسمبر کو ان کی میچورٹی سے تین دن قبل سٹی "گروپ ان کارپوریشن” کو منتقل کر دی ہے ، جو کہ قرض دہندگان میں فنڈز تقسیم کرے گا۔
حکام وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ سکوک بانڈز کی ادائیگی کے بعد عدم ادائیگی کی تمام افواہیں دن توڑ گئیں ہیں۔ پاکستان نے 5 دسمبر کو ایک ارب ڈالر ادا کرنا تھے۔
وزارت خزانہ کے حکام کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کو 48 گھنٹوں پہلے ادائیگی کا گرین سگنل دینا تھا، جبکہ پاکستان نے 72 گھنٹے قبل ازوقت ادائیگی کردی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پہلے ہی واضح کردیا تھا کہ بانڈ کی ادائیگی بروقت کریں گے۔
وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ سکوک بانڈز جمعے کے روز نیویارک مارکیٹ کھلتے ہی ادا کردیئے گئے تھے۔
وزارت خزانہ کے حکام کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان نے کبھی ڈیفالٹ نہیں کیا نہ آیندہ کرے گا، سکوک بانڈ کی قبل از وقت ادائیگی سے بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستان کا اعتماد بڑھا ہے۔
دوسری جانب اسٹیٹ بینک نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سکوک بانڈز کی مد میں ایک ارب ڈالر کی ادائیگی سے زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک ارب ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ سکوک بانڈز کی ادائیگی سے خالص زرمبادلہ کے ذخائر 6.9 ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔
گذشتہ رات جیو نیوز کے پروگرام "آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ” میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بہت جلد پاکستان کے ایک دوست ملک تین ارب ڈالر ملنے والے ہیں جس سے معیشت کی بحالی میں مدد ملے گی۔ مسئلہ اس وقت یہ ہے کہ پاکستان سے ڈالر اسمگل ہورہے ہیں۔ پاکستان سے پڑوسی ملک اسمگل ہونے والی کرنسی کو روکنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم آئی ایم ایف کے پروگرام پر ہر ممکن عمل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ، مگر آئی ایم ایف ہمارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کررہا ہے ، میں ملک کی خاطر آئی ایم ایف کے ساتھ ابھی بھی ڈیل کررہا ہوں ، مجھے یہ بھی پتا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کیسے مکمل کیا جاتا ہے۔ ہم آئی ایم ایف کے ساتھ اپنے پروگرام کو مکمل کرلیں گے۔
نیویارک میں فکسڈ انکم کے منیجنگ ڈائریکٹر اورین براک نے کہا ہے کہ "اس ادائیگی کے بعد تقریباً ایک دہائی کا وقت باقی ہے کیونکہ اگلی ادائیگی 2031 میں کرنی ہے جس کے طویل سفر طے کرنا ہے ، صورتحال میں بہتری کے لیے طویل سفر طے کرنا ہے۔ جبکہ میچورٹی کے تیسری ادائیگی 2051 میں کرنی ہے۔
اگرچہ پاکستان سے اپنی قلیل مدتی قرض کی ذمہ داریوں کو پورا کردیا ہے تاہم اس کے طویل مدتی بانڈز اب بھی پریشان کن سطح پر ٹریڈ کر رہے ہیں کیونکہ سرمایہ کار پاکستان کی بحران سے نکلنے کی صلاحیتوں پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔
عالمی مالیاتی ریٹنگ ایجنسی فچ (Fitch Rating) نے پاکستان کی ریٹنگ بی مائنس سے کم کر کے ٹرپل سی پلس کردی جبکہ اس سے قبل موڈیز نے پاکستانی معیشت کی بربادی کی داستان سناتے ہوئے طویل المدتی قرضوں کی ریٹنگ بھی ڈاؤن گریڈ کردی تھی۔









