ملک سے ڈالر کی اڑان روکنے کے لیے حکومت کی نئی حکمت عملی
وزارت خزانہ کے نوٹی فیکیشن کے مطابق ملک میں ڈالر کی کمی کے باعث سالانہ 30 ہزار ڈالر سے زائد بیرون ملک لیجانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

ملک میں ڈالر کی قلت دور کرنے کے لیے ایف بی آر کے سخت ترین قوانین آگئے، بیرون ملک سفر سے پہلے ان رولز کو پڑھ لیں ورنہ باہر جانے کی بجائے جیل جانا پڑ سکتا ہے۔
وفاقی حکومت نے ڈالر کی قلت دور کرنے کے لیے سخت ترین قوانین پر عملدرآمد کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس سلسلے میں ڈالر اسمگلنگ روکنے اور بیرون ملک سفر کرنے کے لیے ڈالر لے جانے کے سخت ترین رولز جاری کردیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
حکومت نے نواز شریف کی واپسی سے قبل عوام کر ریلیف فراہم کرنے کی ٹھان لی
مشکل فیصلے نہ کیے اور آئی ایم ایف نہ آیا تو ڈیفالٹ سے بچنا مشکل ہوگا، مفتاح اسماعیل
پاکستان سے باہر سفر کرنے والے تمام افراد کے لیے ان رولز کا پڑھنا اور ان کو سمجھنا ضروری ہے ورنہ گرفت ہوسکتی ہے۔
وزارت خزانہ اور ایف بی آر کے جاری کردہ نئے نوٹی فیکیشن کے مطابق ملک میں ڈالر کی کمی کے باعث سالانہ 30 ہزار ڈالر سے زائد بیرون ملک لیجانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ افغانستان جانے والوں کو سالانہ 30 ہزار ڈالر کی بھی اجازت نہیں ہو گی۔
ایف بی آر کے مطابق بیرون ملک وزٹ کے دوران زیادہ سے زیادہ 5 ہزار ڈالر لیجانے کی اجازت ہو گی۔ نوٹی فیکیشن کے مطابق 18 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد سالانہ 30 ہزار ڈالر لے جا سکتے ہیں۔
نوٹی فیکیشن کے مطابق 18 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد بیرون ملک وزٹ پر 5 ہزار ڈالر تک لے جا سکتے ہیں۔ 18 سال یا اس سے کم عمر کے افراد بیرون ملک وزٹ کیلئے 2 ہزار ڈالر لے جا سکتے ہیں، 18 سال یا اس سے کم عمر کے افراد کیلئے سالانہ 15 ہزار ڈالر لے جانے کی اجازت ہو گی۔
ایف بی آر کے نوٹی فیکیشن کے مطابق افغانستان جانے والے افراد ایک وزٹ پر 1 ہزار ڈالر لے جا سکتے ہیں۔ افغانستان جانے والے افراد سالانہ 6 ہزار ڈالر سے زائد نہیں لے جا سکیں گے۔
نوٹی فیکیشن کے مطابق بیرون ملک جانے والے افراد کو سونا، جیولری یا قیمتی دھات سے متعلق ڈیکلریشن دینا ہو گی۔ بیرون ملک سے آنے والے افراد کو 10 ہزار ڈالر یا زائد لانے پر بھی ڈیکلریشن دینا ہو گا۔ یعنی اس کے ذرائع آمدن بتانا ہوں گے۔









