پاکستان نے رواں ماہ افریقا اور مشرق وسطیٰ کو 1.2 لاکھ موبائل فون برآمد کیے

جب تیار کنندگان پاکستانی خریداروں کی مانگ پوری نہیں کر پا رہے تو موبائل فون کیسے برآمد کیے جا سکتے ہیں، سی ای او انووی ٹیلی کام ذیشان میاں نور نے خام مال کی درآمد کا کوٹہ بڑھانے کا مطالبہ کردیا

 پاکستان نے رواں ماہ مشرق وسطیٰ اور افریقا کی مختلف مارکیٹوں میں ایک لاکھ 20 ہزار موبائل فون سیٹ برآمد کیے تاہم مقامی  تیار کنندہ نے اس تعداد پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ہیڈ کوارٹر میں اس کامیابی کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  ممبر (فنانس) محمد نوید اور ممبر (کمپلائنس اینڈ انفورسمنٹ) ڈاکٹر خاور صدیق کھوکھر نے پاکستان میں موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم کی ترقی کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھیے

 نومبر میں ترسیلات زر میں 14.3فیصد کمی،2.1ارب ڈالر تک آگئیں

حکومت نے نواز شریف کی واپسی سے قبل عوام کر ریلیف فراہم کرنے کی ٹھان لی

یہ ملک کے واحد موبائل فون برآمد کنندہ – Inovi Telecom Pvt Ltd – کی طرف سے دوسری برآمدی کھیپ تھی کیونکہ اسے اپریل 2021 میں موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ کا  لائسنس دیا گیا تھا۔موجودہ آرڈر اکتوبر میں موصول ہوا تھا اور ڈلیوری دسمبر میں مشرق وسطیٰ کے ساتھ ساتھ افریقی منڈیوں میں فروخت کے لیے کی گئی ہے۔

تاہم انووی ٹیلی کام کے سی ای او ذیشان میاں نور نے خدشات کا اظہار کیا کہ کم تعداد سے موبائل سازی کے شعبے  کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور انڈسٹری کی ترقی کے لیے باقاعدہ برآمدی آرڈرز ضروری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ خام مال کی درآمد کے لیے کوٹے کی پابندیاں تیارکنندگان کو دیگر مسائل کے ساتھ درپیش اہم رکاوٹ تھیں۔ذیشان میاں نور نے کہاکہ  موبائل انڈسٹری کو موبائل فون سیٹ اسمبلی کے لیے کلیدی اجزا درآمد کرنے کے لیے سالانہ 83 ملین ڈالر کا کوٹہ دیا گیا ہے جبکہ اس صنعت کو مارکیٹ کی طلب کو پورا کرنے کے لیے185 ملین ڈالر کے خام مال کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب تیار کنندگان پاکستانی خریداروں کی مانگ پوری نہیں کر پا رہے تو موبائل فون کیسے برآمد کیے جا سکتے ہیں؟ایک موبائل فون بنانے والی کمپنی نے ڈان کو بتایا کہ حکومت نے موبائل فون کے تیارکنندگان کو 3پی سی  آر اینڈ ڈی الاؤنس دینے کا وعدہ پورا نہیں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ”حکومت کی متضاد پالیسیاں بین الاقوامی برانڈز کی حوصلہ شکنی کر رہی ہیں کہ وہ پاکستان میں موبائل فونز کی تیاری شروع کر کے مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا یا چین سمیت کسی بھی ایسے خطے کوموبائل فون برآمد کرسکیں جہاں اب سستے فون تیار نہیں ہوتے ۔

اس وقت ملک میں  موبائل فون کی تیاری کا لائسنس رکھنے والے 31 تیار کنندگان موجود ہیں جن میں سام سنگ،نوکیا، ژاؤمی اور دیگر مشہور چینی برانڈز شامل ہیں۔

متعلقہ تحاریر