معاشی بدحالی کے باعث طلب کم ہونے پر فوجی فرٹیلائزر بن قاسم کا ڈی اے پی پلانٹ بند

سالانہ دیکھ بھال کی تکمیل کے بعد ڈی اے پی  پلانٹ کا آغاز ڈی اے پی مارکیٹ کی صورت حال کو مدنظر رکھ کر کیاجائے گا، کمپنی کا اسٹاک فائلنگ میں موقف، کوہ نور اسپننگ ملز، بلوچستان وہیلز لمیٹڈ اور انڈس موٹرز بھی طلب گرنے پر اپنے پلانٹس عارضی طور پر بند کرچکے

فوجی فرٹیلائزر بن قاسم لمیٹڈ (ایف ایف بی کیو ایل) نے  معاشی بدحالی کے باعث  مارکیٹ میں طلب کے مقابلے میں  رسدبڑھنے کے باعث ڈی اے پی انوینٹری کو منظم کرنے کے لیے 21 دسمبر سے اپنا ڈی اے پی پلانٹ بند کر دیا ہے۔

کمپنی اپنی اسٹاک فائلنگ میں ڈی اے پی پلانٹ کی  عارضی بندش کی مدت بتائے بغیر کہا کہ وہ جنوری میں پلانٹ میں منصوبہ بند سالانہ دیکھ بھال کی سرگرمی کا بھی انتظام کرے گی تاکہ قابل اعتماد اور پائیدار محفوظ آپریشنز کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے

سیلاب نے پاکستانی معیشت کو بری طرح متاثر کیا، اسٹیٹ بینک

مالی سال کے ابتدائی 5 ماہ میں موبائل فونز کی درآمد میں 66 فیصد کمی

کمپنی نے کہا ہے کہ سالانہ دیکھ بھال کی تکمیل کے بعد ڈی اے پی  پلانٹ کا آغاز ڈی اے پی مارکیٹ کی صورت حال کو مدنظر رکھ کر کیاجائے گا۔ عارضی بندش کے باوجود کمپنی ملک میں ڈی اے پی کی متوقع مانگ کو پورا کرنے کا ارادہ رکھتی ہےجبکہ یوریا پلانٹ معمول کے مطابق کام کرتا رہے گا۔

کمپنیز آرڈیننس  1984 کے تحت پاکستان قائم کردہ فوجی فرٹیلائزر بن قاسم لمیٹڈایک  پبلک لمیٹڈ کمپنی ہے جو بنیادی طور پر کھادوں کی تیاری، خریداری اور مارکیٹنگ میں مصروف ہے۔

یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان میں حالیہ مہینوں میں کھاد کی طلب میں زبردست کمی دیکھی گئی ہے۔ نیشنل فرٹیلائزر ڈیولپمنٹ سینٹر (این ایف ڈی سی) کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق  اکتوبر 2022 کے دوران ڈی اے پی  کی پیداوار 71ہزار ٹن تھی جو اکتوبر 2021 کے مقابلے میں 79.1 فیصد کم ہوئی۔این ایف ڈی سی نے کہا کہ ڈی اے پی کی طلب میں یہ کمی شدید بارشوں ،سیلاب اور مقامی مارکیٹ میں ڈی اے پی کھاد کی بلند قیمت  کا نتیجہ ہے

دریں اثنا مختلف شعبوں کی نمائندگی کرنے والی متعدد کمپنیوں نے بھی مانگ میں کمی کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے کام کو بند یا محدود کر دیا ہے۔

اس ماہ کے شروع میں دھاگے،کپڑے اور سلے ہوئے کپڑے کی تیارکنندہ و برآمد کنندہ کوہ نور اسپننگ ملز لمیٹڈ (KOSM) نے موجودہ عالمی اور معاشی بدحالی، پلانٹ کی مہنگی دیکھ بھال،زیادہ پیداواری لاگت  اور طلب میں کمی کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی پیداواری سہولت کو عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

بلوچستان وہیلز لمیٹڈ (بی ڈبلیو ایچ ایل) کی انتظامیہ نے بھی مارکیٹ میں آٹوز کی کم مانگ کی وجہ سے پیداواری سرگرمیاں عارضی طور پر بند کرنے یا روکنےکا فیصلہ کیا۔

بعد ازاں انڈس موٹر کمپنی (آئی ایم سی) نے بھی  رواں ہفتے  ایل سیز  کی منظوری میں تاخیر کی وجہ سے 20 دسمبر سے 30 دسمبر تک اپنا پروڈکشن پلانٹ مکمل طور پر بند  کرنے کا اعلان کیا تھا۔

متعلقہ تحاریر