میشا شفیع کی گواہ عفت عمر پھر عدالت سے غیرحاضر

عدالت نے میشا شفیع سمیت دیگر گواہان کو آئندہ پیشی پر جرح لازماً مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔

پاکستان کے مشہور گلوکار علی ظفر کے ہتک عزت کے دعوے میں میشا شفیع کی گواہ عفت عمر پھر عدالتی حکم کے باوجود عدالت سے غیرحاضر رہیں۔ عدالت نے میشا شفیع سمیت دیگر گواہان کو آئندہ پیشی پر جرح لازماً مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔

بدھ کے روز لاہور کی سیشن کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال رانجھا نے علی ظفر کے ہتک عزت کے مقدمے کی سماعت کی۔ گلوکارہ میشا شفیع کی جانب سے گواہ عفت عمر عدالتی حکم کے باوجود ایک بار پھر غیرحاضر رہیں۔ علی ظفر کے وکلا نے اعتراض کیا کہ عفت عمر نے علی ظفر سے متعلق ٹوئٹ کیا ہے جبکہ ابھی ہراسانی کا الزام ثابت نہیں ہوا اور انہوں نے اپنی جرح بھی تاحال مکمل نہیں کی ہے۔

دوران سماعت میشا شفیع کی ایک اور گواہ (گواہ نمبر چھ) 42 سالہ لینا غنی نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا جس میں انہوں نے کہا کہ علی ظفر نے ہراساں کیا ہے اور بے ہودہ الفاظ ادا کیے جسے سن کر وہ حیران رہ گئیں۔

میشا بوم بوم
Catacut

42 سالہ خاتون لینا غنی نے اپنے بیان میں کہا کہ 2014 میں لندن میں ایک فیشن شو کے دوران علی ظفر نے بغیر اجازت ان کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ ‘دیکھو لینا بارشِ ہو رہی ہے تمہیں چومنے کا دل کر رہا ہے’ جس پر وہ حیران ہوگئیں۔ جبکہ لندن میں ایک بار پھر ایک ڈنر کے دوران انہوں نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘کیا تم ورجن یعنی کنورای ہو؟ ساتھ ہی ہنستے ہوئے کہا کہ ‘تم تو طلاق یافتہ خاتون ہو تم کہاں سے کنورای ہوگی’۔

یہ بھی پڑھیے

پی ایس ایل ترانے پر علی ظفر اور میشا شفیع پھر آمنے سامنے

گواہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ‘علی ظفر نے 9 خواتین کو ہراساں کیا ہے تاہم اخلاقی طور ان کے نام نہیں بتاؤں گی۔ میشا شفیع کی گواہ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ عدالت سے پاکستان کی خواتین کو انصاف ملے گا۔

دوسری جانب عدالت نے میشا شفیع سمیت دیگر گواہان کو آئندہ سماعت پر اپنی جرح مکمل کرنے کے لیے طلب کرتے ہوئے کارروائی 6 مارچ تک ملتوی کردی ہے۔

ادھر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں علی ظفر کی وکیل عنبرین قریشی نے ‘می ٹو’ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ لکھا کہ ‘عدالت نے میشا شفیع کو 6 مارچ کو آئندہ سماعت پر تمام گواہان کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔ ان کی پہلی گواہ عفت رحیم آج تیسری بار عدالت میں پیش ہونے میں ناکام رہیں۔’

جبکہ میشا شفیع نے اپنی ٹوئٹ میں نجی ٹی وی چینل جیو نیوز پر تنقید کی ہے حالانکہ اس چینل کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ میشا شفیع کا اِس معاملے کے آغاز سے حمایتی رہا ہے کیونکہ گلوکارہ سے متعلق مثبت خبریں اور اُن کے بیانات من و عن نشر کرتا رہا ہے۔

واضح رہے میشا شفیع آخری مرتبہ دو سال قبل 2019 میں عدالتی کارروائی میں شریک ہوئی تھیں۔ میشا شفیع نجی منصوبوں پر کام کرنے کے لیے پاکستان میں موجود ہوتے ہوئے بھی عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں بنیں تھیں۔

میشا شفیع کیس میں ان کی گواہ لینا غنی اور وکیل نگہت داد نے میڈیا سے گفتگو کرنے سے گریز کیا جبکہ میشا شفیع کے دوسرے وکیل ثاقب جیلانی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘عدالت نے حکم دیا ہے کہ اگلی پیشی میں میشا شفیع اور دیگر گواہان پیش ہوں گے۔’

دوسری طرف علی ظفر کے وکیل عمر طارق گل نے نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ‘میشا شفیع 2019 میں آخری دفعہ عدالتی کارروائی میں شریکِ ہوئیں۔ دو سال سے وہ عدالتی کارروائی کو نظر انداز کر رہی ہے۔’

انہوں نے مزید کہا کہ ‘میشا شفیع کے وکیل کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ اس کیس کی وجہ سے گلوکارہ سمیت گواہان کو مشکلات کا سامنا ہے جس پر عدالت سے درخواست کی ہے کہ اس کیس کو روزانہ کی بنیاد پر چلایا جائے۔’

یاد رہے کہ علی ظفر کی جانب سے تمام بیانات قلمبند کروا دیے گئے ہیں مگر گلوکارہ کیس کو طول دے رہی ہیں۔ دوسری طرف میشا شفیع کی گواہ عفت عمر پھر عدالت سے غیرحاضر ہیں جس کی وجہ سے اُن کی جرح نامکمل ہے۔

متعلقہ تحاریر