نام نہاد لبرلز کا دوہرا معیار

نام نہاد لبرز علی ظفر اور ہم اسٹار ایوارڈ انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔

پاکستان کے معروف گلوکار و اداکار علی ظفر کو ہم اسٹائل ایوارڈز کی میزبانی کرنے اور ایوارڈ سے نوازنے پر انڈسٹری کے نام نہاد روشن خیال افراد نے تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہی افراد کے گروہ سے تعلق رکھنے والی چند شخصیات ہراسگی کے مقدمے کا سامنا کرنے والے صحافی مرتضیٰ سولنگی کے ویب چینل پر انٹرویو دیتے نظر آئیں۔

دو روز قبل لاہور میں ہونے والے ہم اسٹائل ایوارڈز میں علی ظفر نے میزبانی کے فرائض انجام دیئے جبکہ انہیں ایوراڈ سے بھی نوازا گیا۔ ساتھی گلوکار پر ہراسگی کا الزام لگانے والی میشا شفیع اس بات پر آگ بگولہ ہوگئیں اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ہم ٹی انتظامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ اب انہیں اسٹائل ایوارڈز کے لیے نامزد نہ کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے

ہم اسٹائل ایوارڈز کی نامزدگیوں کا اعلان

سوشل میڈیا پر کچھ نام نہاد لبرز کی جانب سے بھی علی ظفر اور ہم اسٹائل ایوارڈز کی انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ صارفین کے مطابق علی ظفر میشا شفیع کو ہراساں کرنے کی وجہ سے مقدمے کا سامنا  کررہے ہیں اس لیے انہیں اس طرح نوازنا خواتین کی توہین کرنے کے مترادف ہے۔ ٹوئٹر پر پاکستانی فیشن ڈیزائن ماہین غنی نے لکھا کہ صرف پاکستان میں ہی ایک ہراساں کرنے والے شخص کو نوازا جاتا ہے اور اسے اسٹیج شو کی میزبانی بھی دی جاتی ہے۔

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی صاحبزادی ایمان زینب مزاری نے ٹوئٹ کیا کہ کیا ہم اسٹائل ایوارڈز میں علیزے شاہ کے لباس پر غم و غصہ کرنے کے بجائے ایوارڈ انتظامیہ سے یہ پوچھ سکتے ہیں کہ انہوں نے ایک ہراساں کرنے والے شخص کو اپنا اسٹیج کیسے دیا؟ جن لوگوں نے ایک ہراساں کرنے والے شخص کی میزبانی میں ہونے والی تقریب میں شرکت کی، اب انہیں اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنی ہوگی۔

واضح رہے کہ 18 اپریل 2018 کو میشا شفیع نے اپنی ایک ٹوئٹ میں علی ظفر پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ میشا شفیع نے یہ پوسٹ اس وقت کی تھی جب دنیا بھر میں ‘می ٹو’ مہم عروج پر تھی۔ میشا شفیع نے علی ظفر کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست بھی دی تھی جسے بعد میں خارج کردیا گیا تھا۔ان دنوں میشا شفیع کینیڈا جبکہ علی ظفر پاکستان میں ہی مقیم ہیں اور وہ مختلف فورمز پر میشا شفیع کے خلاف اپنے اوپر لگائے گئے الزامات پر مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر جو لوگ اس وقت ہراسگی کیس کے باعث علی ظفر پر تنقید کررہے ہیں وہی لوگ مرتضیٰ سولنگی کے ویب چینل پر انٹرویو دیتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔ واضح رہے کہ سابق ڈائیکٹر جنرل پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (پی بی سی) مرتضیٰ سولنگی کو بھی ہراسگی کے مقدمے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

متعلقہ تحاریر