برصغیر کے عظیم اداکار دلیپ کمار انتقال کر گئے

دلیپ کمار نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز 1944 میں 22 سال کی عمر میں فلم 'جوار بھاٹا' سے کیا تھا۔

بالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار شہنشاہ جذبات اداکار محمد یوسف خان المعروف دلیپ کمار طویل علالت کے بعد 98 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ دلیپ کمار 1922 کو پشاور کے محلہ خداداد میں پیدا ہوئے اور ان کا آبائی گھر آج بھی پشاور میں موجود ہے۔

طویل العمری کی وجہ سے دلیپ کمار کو چند سال سے سانس لینے میں مشکل، سینے میں تکلیف، پھیپھڑوں اور گردوں کے مسائل کی وجہ سے ہسپتال داخل کرایا جاتا رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

عدنان صدیقی پروڈیوسر بن گئے

انڈین میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دلیپ کمار کو 30 جون کو سانس لینے میں دشواری پیش آنے کی وجہ سے ایک ہی مہینے میں دوسری مرتبہ اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ دلیپ کمار کو انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا گیا تھا۔

دلیپ کمارکے انتقال کی خبر ان کے ذاتی  ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ان کے مینجر فیصل فاروقی نے دی ہے۔ انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ انتہائی دکھی دل اور گہرے رنج و غم کے ساتھ  میں ہمارے محبوب دلیپ صاب کے انتقال کا اعلان کرتا ہوں جو چند منٹ قبل اس دنیا کو چھوڑ گئے۔ ’ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے۔‘

پشاور میں پیدا ہونے والے دلیپ کمار نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز 1944 میں 22 سال کی عمر میں فلم ‘جوار بھاٹا’ سے کیا تھا۔

انہوں نے بہت سی فلموں میں مختلف قسم کے کردار ادا کیے لیکن ‘مغل اعظم’ میں ان کی رومانوی اداکاری نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا۔ ‘رام اور شام’ میں ان کے کردار کو آج بھی بہت پسند کیا جاتا تھا۔ ‘انداز’، ‘نیا دور’، ‘مدھومتی’ ’دیوداس‘ اور ‘آدمی’ جیسی کئی سپرہٹ فلیمیں بھی ان کے کریڈٹ پر ہیں۔

ان کی آخری فلم ‘قلعہ’ 1998 میں ریلیز ہوئی تھی, دلیپ کمار کو 1991 میں پدمابھوشن، 1994 میں دادا صاحب پھالکے اور 2015 میں پدماوی بھوشن ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔ انہیں پاکستانی حکومت کی طرف سے 1998 میں نشان امتیاز سے بھی نوازا گیا۔

دلیپ کمار ایک دہائی سے ہر طرح کی تقریبات سے دور تھے اور زائد العمری و بیماری کی وجہ سے گھر پر ہی رہتے تھے۔

انڈیا کے وزیراعظم نریندرہ مودی نے بھی عظیم اداکار دلیپ کمار کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

متعلقہ تحاریر