بھارت میں پہلا ہم جنس پرست جج تعینات، فرحان اختر کا خراج تحسین

تین سالوں میں تین مرتبہ ان کے سوربھ کرپال کے جنسی رجحان کے باعث تعیناتی کی سفارش کو مؤخر کیا گیا

بھارتی دارالحکومت دہلی  کے  ہائیکورٹ میں ملکی تاریخ کے پہلے ہم جنس پرست جج کو تعینات کردیا گیا ہے، تین سالوں میں تین مرتبہ ان کے  جنسی رجحان کے باعث تعیناتی کی سفارش کو مؤخر کیا گیا تاہم اب سوربھ کرپال  دہلی ہائیکورٹ کے پہلے ہم جس پرست جج تعینات کردیئے گئے ہیں۔

بالی ووڈ کے معروف اداکار و ہدایتکار فرحان اختر نےبھارتی  سپریم کورٹ کے ہم جنس پرستی کو جرائم کے زمرے سے خارج کرنے کا تاریخی فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ   سپریم کورٹ نے سوربھ کرپال کودہلی ہائیکورٹ کا جج تعینات کرکے ثابت کیا ہے کہ ملک میں جنسی رجحان کی اہمیت نہیں بلکہ میرٹ پر فیصلے کئے جاتے ہیں جو معاشرے میں برابری اور  مساوات  کےلئے ایک تاریخی فیصلہ  ہے ، آج  جو غیر معمولی  محسوس ہورہا ہے امید ہے کہ یہ     سب کے لئے قابل قبول اور عام ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے دہلی ہائی کورٹ میں پہلی بار ہم جنس پرست جج سوربھ کرپال کی تقرر کی منظوری دے دی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں سنہ 2013 کے ایک عدالتی فیصلے کو کالعدم قرار دیا ہے۔ اس فیصلے میں ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے میں شامل کرنے والے قانون کو آئین کی روشنی میں درست قرار دیا گیا تھا۔

متعلقہ تحاریر