ہوائی فائرنگ کرکے جابرانہ انداز میں جشن نہ منائیں، عشنا شاہ
اداکارہ نے ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے گھریلو ملازم کے 9 سالہ بھتیجے کو ہوائی فائرنگ سے دل کا دورہ پڑا اور وہ جاں بحق ہوگیا۔

خوبرو اور ذہین اداکارہ عشنا شاہ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات ان کے گھریلو ملازم کا 9 سالہ بھتیجا دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ اس معصوم ننھے بچے کو ہوائی فائرنگ سننے کی وجہ سے دل کا دورہ پڑا۔
Last night my domestic staff member’s 9 month old nephew had a heart attack and died after being terrified upon hearing celebratory gunfire.
Celebratory Gunfire.
Barbaric celebrations keep taking precious lives yet people continue this abhorrent practice.— Ushna Shah (@ushnashah) March 11, 2022
عشنا شاہ کا کہنا تھا کہ یہ جابرانہ جشن قیمتی جانیں لے رہا ہے لیکن لوگ اس گھناؤنے عمل سے باز نہیں آتے۔
یقیناً یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے کہ 9 سالہ بچہ فائرنگ کی آواز سے اتنا سہم گیا کہ اسے دل کا دورہ پڑ گیا۔
پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 337 ایچ 2 کے تحت ہوائی فائرنگ کرکے لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والے شخص کو قید اور جرمانے کی سزائیں ہوسکتی ہیں۔
ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ ہوائی فائرنگ کے واقعات کو روکنے کے لیے قانون مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔
کرمنل پروسیجر کوڈ 1898 کے تحت ہوائی فائرنگ کو دوسرے شیڈول میں درج جرائم کی فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قوانین جتنے بھی سخت ہوجائیں، اس معاملے کا تعین کرنا بذات خود ایک مشکل کام ہے کہ ہوائی فائر ہوا تو کہاں ہوا، کہاں سے آواز آئی، ہوائی فارئنگ کرنے والے کو دیکھا بھی گیا یا صرف آوازوں کا تعین کرکے کسی کو گرفتار کرلیا گیا۔
لیکن یہ ضرور ہوسکتا ہے کہ شادی، تقریبات اور دیگر جشن کے مواقعوں پر ہونے والی ہوائی فائرنگ کے بارے میں معلومات موجود ہوتی ہیں کہ یہ فائرنگ کہاں کی گئی اور اس میں کون ملوث تھا۔
شروعات ایسے کی جاسکتی ہیں کہ جن افراد کی نشاندہی ہوجائے کہ یہ ہوائی فائرنگ میں ملوث تھے تو انہیں گرفتار کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی ضرور کی جائے۔









