غیرمسلموں نے عشنا شاہ کیلیے نماز کی ادائیگی کیسے آسان بنائی؟

اداکارہ عشنا شاہ بیوٹی پارلر میں تھیں جب ایک ہندو میک اپ آرٹسٹ نے انہیں وضو کروایا اور عیسائی خاتون نے صفائی کرکے جائے نماز بچھائی۔

خوبرو اداکارہ عشنا شاہ نے کہا کہ ایک عیسائی اور ہندو نے نمازِ عصر کی ادائیگی کے لیے مجھے انتظام کر کے دیا اور رواداری کی بہترین مثال قائم کر دی۔

عشا نے بتایا کہ وہ نبیلہ سیلون پر تھیں جہاں ہندو میک اپ آرٹسٹ نے شاور والا نَلکا پکڑے رکھا تاکہ میں باآسانی وضو کرسکوں۔

دوسری میک اپ آرٹسٹ جو کہ عیسائی تھی اُس نے فرش صاف کر کے میرے لیے جائے نماز بچھائی۔

عشنا کی اس ٹویٹ سے دو اہم سبق ملتے ہیں، ایک تو یہ کہ عیسائی اور ہندو پاکستان میں اقلیت میں ہیں، ہمیں اُن کا بہت زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔

جن ممالک میں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں اکثریتی مذاہب کے افراد اور حکومتیں بھی مسلمانوں کے لیے بہت سازگار ماحول فراہم کرتی ہیں تاکہ مسلمان خود کو غیرمحفوظ نہ سمجھیں۔

لیکن افسوس کی بات ہے کہ پاکستان میں اقلیتیں غیر محفوظ ہیں اور ان پر جان لیوا حملے ہوتے ہیں۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ عشنا شاہ کو اُن کے بےباک فوٹوشوٹ اور لباس کی وجہ سے اکثر ہدف تنقید بنایا جاتا ہے۔

عشنا کی تصاویر اور سوشل میڈیا پوسٹس پر نہایت بےہودہ کمنٹس ہوتے ہیں، ان کے متعلق طرح طرح کی دشنام طرازی ہوتی ہے، لیکن وہی عشنا شاہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان بھی ہے جسے بیوٹی پارلر میں بھی نماز کا خیال رہتا ہے۔

ہمارے لوگوں کو سمجھنا ہوگا کہ کسی کے بھی مذہبی عقائد، اعمال اور افعال اُس کا خدا کے ساتھ تعلق ہے جس میں کسی بھی شخص کو مداخلت کا کوئی اختیار نہیں۔

عشنا نے یہ ٹویٹ اپنے آپ کو نمازی ثابت کرنے کے لیے ہرگز نہیں لگائی بلکہ ایک ہندو اور ایک عیسائی نے بین المذاہب ہم آہنگی کا ثبوت دیتے ہوئے عشنا کو نماز کی ادائیگی میں مدد کی، اس رویے کو سراہنے کے لیے، اجاگر کرنے کے لیے یہ ٹویٹ کی گئی ہے۔

متعلقہ تحاریر