اذان سمیع خان  نے انا کو رشتوں کی خرابی کی بڑی وجہ قرار دیدیا

95 فیصد مسائل  انا کو ایک طرف رکھ کر حل کیے جاسکتے ہیں، آپ کی انا کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان آپ کےبچوں کا ہی ہوتا ہے، اداکار و گلوکار کا بیوی سے علیحدگی کااعتراف

گلوکار و اداکار اذان سمیع خان نے اپنی اہلیہ سے علیحدگی  کا اعتراف کرتے ہوئے  انا کو رشتوں کی خرابی کی سب سے بڑی وجہ قرار دے دیا۔

اذان سمیع خان نے فوشیا میگزین کی معروف میزبان رابعہ مغنی کو دیے گئے انٹرویو میں اپنی نجی زندگی کے حوالے سے کھل کر اظہار خیال کیا۔

یہ بھی پڑھیے

سجل علی کی پہلی برطانوی فلم کس تاریخ کو ریلیز ہوگی؟

پہلی مسلم سپر ہیرو سیریز” مس مارول “کی پہلی قسط آج نشر ہوگی

اذان سمیع خان  نے کہا کہ ہمارا معاشرہ مرد میں غیرضروری انا پیدا کرتا ہے، مرد کو کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی انا کو قابو کرنا ہوتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اپنے بچے کی پرورش کے حوالے سے میرا جوابی ردعمل اپنی انا کو سامنے لاکر عام  آدمی جیسا تھا۔پھر مجھے احساس  ہوا کہ ساری مشکلات میری انا کی وجہ سے ہیں  اور میری انا سے کسی کو بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا اور جس دن مجھے یہ بات سمجھ میں آگئی اس دن میں میرے بچوں سمیت سب کی زندگی بہتر ہوگئی۔

اذان سمیع خان نے کہا کہ ایک چیز جو ہمیں نہیں سکھائی جاتی وہ یہ ہے کہ رشتوں میں انا ہی جنگ کا باعث بنتی ہے اور اس حوالے سے لوگوں  کو شعور دینا بہت ضروری ہے۔

اپنی سابقہ اہلیہ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اذان سمیع خان نے کہا کہ اب ہمارے بہت اچھے تعلقات ہیں، ہمارے درمیان سب چیزیں طے ہوچکی ہیں کہ بچے کب والد اور کب والدہ  کے پاس رہیں گے  لیکن اس مرحلے تک پہنچنے کے بعد جب  میں پچھے مڑ کر دیکھتا ہوں توسوچتا ہوں کہ اس وقت مجھے جو مشورے دیے گئے تھے وہ بہت برے تھے۔

View this post on Instagram

A post shared by Rabia Mughni (@rabia_mughni)

اہلیہ سے علیحدگی کے دوران ملنے والے مشوروں کے حوالےسے انہوں نےبتایا کہ پہلے تو شروع سے یہ تھا کہ بچوں کی خاطر ساتھ رہو لیکن اگر دو لوگ نہیں مل  رہے اور بچوں کے ماحول میں صرف بدمزگی ہے تو 2022 میں بچوں کو یہ ماحول کیوں دیا جائے؟ جبکہ بچوں کو ایک خوشگوار ماحول دیا جاسکتا ہے جہاں ان کی ماں جو ان کی زندگی کا بہت بڑا حصہ ہیں  وہ اور سب خوش ہیں۔

اذان سمیع خان نے مزید بتایا کہ ایک اور مشورہ یہ آیا کہ بچے اپنے پاس رہنے چاہئیں لیکن ہمارا مذہب تو یہ سکھاتا ہے کہ بچوں کا ایک خاص عمر تک اپنی ماں کے ساتھ رہنا ضروری ہےاور میں خود ایک سنگل پیرنٹ  کا بچہ ہوں ،اگر میں نے اس مسئلے کو ایک باپ کے طور پر دیکھا ہے تو اپنی والدہ  کی طرف ایک ماں کے طور سے بھی دیکھا ہے۔

اذان سمیع خان نے کہا کہ 95 فیصد مسائل  انا کو ایک طرف رکھ کر حل کیے جاسکتے ہیں اور صرف بچوں کیلیے نہیں بلکہ سب کیلیے اسی میں بہتری ہے کیونکہ زیادہ تر مسئلے اسی وقت ختم ہوجاتے ہیں جب آپ اپنی انا کو ایک طرف رکھتے ہیں کیونکہ جب آپ کی انا سامنے آتی ہے تو آپ ایک دوسرے سے بدتمیزی کرتے ہیں اور پھر دیگر مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اکیلیے باپ یا اکیلی ماں کیلیے اپنی انا کو قابو کرنا ہی سب سے بڑا مسئلہ ہے کیونکہ جب آپ اپنی انا پر قابو کرلیں گے تو ہی آپ سوچ سکیں گے کہ اپنے مسئلے کا کیاحل نکالا جاسکتا ہےکیونکہ آپ کی انا کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان آپ کےبچوں کا ہی ہوتا ہے۔

متعلقہ تحاریر