اداکار فیصل قریشی نے فراڈیوں کو بے نقاب کردیا
اداکار فیصل قریشی نے اے ٹی ایم کارڈ بلاک ہونے کا جھوٹا میسیج بھیج کر سادہ لوح صارفین کو لوٹنے والے نوسربازوں کو بےنقاب کردیا۔
پاکستان میں صارف کے حقوق کی حفاظت کرنے والا کوئی نہیں، نہ مالیاتی و کاروباری ادارے اور نہ حکومت،کوئی بھی صارف کے حقوق کی بات نہیں کرتا۔ سسٹم کی کمزوری کا ہی نتیجہ ہے کہ فراڈیے اور نوسر باز مختلف بہانوں سے عوام کو بے خوف ہوکر لوٹتےہیں۔
یہ بھی پڑھیے
شمعون عباسی نے اداکارہ شیری شاہ سے شادی کرلی؟
اپنی زمینیں بچانے کیلیے غریبوں کو ڈبونے والوں کو جوابدہ بنائیں ، مریم نفیس
اپاکستان میں بینک صارفین کے ساتھ دھوکہ دہی کی شکایات میں روز بروز اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔بینک صارفین کو مختلف طریقوں سے بہلاپھسلا اورڈرا کر ان کے کوائف حاصل کیے جاتے ہیں اور پھرانہیں بینکوں میں موجود رقوم سے محروم کردیا جاتا ہے۔
Bas yeah daikhna rhe gaya tha bank ka msg private number sey …. Pakro pakro koun hey yeah pic.twitter.com/FOVEnb7Pjd
— Faysal Quraishi (@faysalquraishi) September 2, 2022
اداکار فیصل قریشی نے بھی ایسے ہی ایک فراڈ کی جانب توجہ مبذول کروائی ہے۔اداکار فیصل قریشی نے اپنے موبائل پر موصول ہونے والے ایک پیغام کا اسکرین شاٹ اپنے ٹوئٹ میں شیئر کیا ہے۔
فیصل قریشی نے کیپشن میں لکھا کہ بس یہ دیکھنا رہ گیا تھا، بینک کا میسیج پرائیویٹ نمبر سے۔۔۔ پکڑو پکڑو کون ہے یہ؟فیصل قریشی کے ٹوئٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کئی صارفین نےاسی نمبر سے پیغامات موصول ہونے کی شکایات کیں۔
almost daily mujhy bhi aesy msg rec htoy…bank me acc kholty he next week se aana shuru ho jaty msgs
— ℚ𝕦𝕣𝕒𝕥 𝕌𝕝 𝔸𝕚𝕟 𝕄𝕚𝕣𝕫𝕒 (@qurat5000) September 2, 2022
ایک خاتون صارف نے لکھا کہ تقریباً روزانہ ہی مجھے ایسے پیغامات موصول ہوتے ہیں۔بینک میں اکاؤنٹ کھولتے ہی اگلے ہفتے سے ایسے پیغامات موصول ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔
Being cyber security person it really hurts me💔 we don’t have any proper law, if exists then we don’t have the dept or person to implement it, Where did he get this number? but millions of numbers. Can a Pakistani ask someone or rise questions about data leaks? no sorry🤐
— Shehzad Ahmad (@imshehzadahmad) September 2, 2022
سائبر سیکیورٹی سے وابستہ ایک صارف نے اپنی بے بسی کا رونا روتے ہوئے لکھاکہ سائبر سیکیورٹی پرسن ہونے کے ناطے مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے، ہمارے پاس کوئی مناسب قانون نہیں ہے، اگر موجود ہے تو ہمارے پاس اس پر عمل درآمد کرنے والا محکمہ یا شخص نہیں ہے، اسے یہ نمبر کہاں سے ملا؟ کیا کوئی پاکستانی کسی سے پوچھ سکتا ہے یا ڈیٹا لیک کے بارے میں سوالات اٹھا سکتا ہے؟ افسوس نہیں۔









