سوشانت سنگھ راجپوت کو قتل کیا گیاتھا، عامر خان کے بھائی فیصل خان کادعویٰ

بالی ووڈ سپراسٹار عامر خان کے بھائی اور فلم میلا میں ان کے ساتھی اداکار فیصل خان نے ایک حالیہ انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کو قتل کیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض اوقات اس طرح کی”سچائیاں“ سامنے نہیں آتیں ، دعا کی کہ یہ جلد سامنے آجائے۔
بھارتی میڈیا سے بات کرتے ہوئے فیصل خان نے کہاکہ ’’میں جانتا ہوں کہ اسے (سشانت سنگھ راجپوت) قتل کیا گیا ہے، کیس کب کھلے گا یا نہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا، اس میں کئی ایجنسیاں (سی بی آئی، ای ڈی، این سی بی) ملوث ہیں، تفتیش جاری ہے۔ کبھی کبھی حقیقت بھی سامنے نہیں آتی۔ میری دعا ہے کہ سچ سامنے آئے تاکہ سب کو پتہ چل جائے۔‘‘
یہ بھی پڑھیے
سوشانت سنگھ راجپوت کو ریا چکروتی نے برباد کیا،بہن پرینکا کا الزام
رنویر سنگھ نے مقدمے کی وجہ بننے والی برہنہ تصویر کو جعلی قرار دیدیا
سوشانت سنگھ راجپوت 14 جون 2020 کو ممبئی میں اپنے باندرہ کے فلیٹ میں مردہ پائے گئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اداکار نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ ان کی موت کے بعد اداکار کے والد نے ان کی گرل فرینڈ ریا چکرورتی کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ اداکارہ سے کئی ایجنسیوں جیسے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) اور سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے پوچھ گچھ کی۔ سوشانت کی موت کی سی بی آئی تحقیقات ابھی جاری ہے۔ سوشانت کے اہل خانہ اور مداح اب بھی دعاگو ہیں کہ اداکار کو انصاف ملے۔
حال ہی میں سوشانت کی بہن میتو نے ان کی ایک تصویر شیئر کی تھی اور لکھا تھا، ’’اس بالی ووڈ کو تباہ کرنے کے لیے سوشانت کا برہمسترا کافی ہے۔ بالی ووڈ ہمیشہ عوام کو ڈکٹیٹ کرنا چاہتا ہے، باہمی احترام اور عاجزی کا مظاہرہ کرنے سے کبھی باز نہیں آتا ہے۔ ہم ایسے لوگوں کو اپنے ملک کا چہرہ کیسے بننے دے سکتے ہیں جو اخلاقی قدروں سے مالا مال ہیں؟ دکھاوے کے ساتھ عوام کی محبت جیتنے کی ان کی افسوسناک کوشش ناکام ہوگئی۔ معیار اور اخلاقی اقدار ہی واحد چیز ہیں جو تعریف اور احترام حاصل کرتی ہیں۔
دریں اثنا فیصل خان نے اس وقت ایک تنازع کھڑا کر دیا جب انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے بھائی سپر اسٹار عامر خان نےذہنی بیمار قرار دیکر قید کرلیاتھا ۔ انہوں نے بھارتی میڈیا کو بتایا تھاکہ ”میں اپنے خاندان کے ساتھ اس مرحلے سے گزر رہا تھااور پھر ایک دن عامر نے فون کیا کہ وہ میرے دستخطی حقوق حاصل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ میں پاگل ہوں اور اپنا خیال نہیں رکھ سکتا۔ اس لیے مجھے جج کے سامنے یہ اعلان کرنے کو کہا گیا کہ میں اپنی دیکھ بھال کرنے سے قاصر ہوں۔ میں سمجھ نہیں سکا، کیوں ؟ تو اسی وقت میں نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ “









