باکس آفس بالی ووڈ کیلیے ڈراؤنا خواب بن گیا، فلموں کی ناکامی کی وجہ کیا ہے؟
اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کا عروج بالی ووڈ کے زوال کی وجہ بنا،عام آدمی کے بجائے خواص کی فلمیں بنانا بھی فلم بینوں کو پسند نہیں آرہا، انتہاپسندوں کی بائیکاٹ مہم بھی بالی ووڈ لٹیا ڈبو رہی ہے، رپورٹ

ڈیڑھ ارب آبادی والے دیوانے فلم بینوں کے ملک بھارت کی فلم انڈسٹری بالی ووڈ اپنے اب تک کے سب سے بڑے بحران کا سامنا کررہی ہے کیونکہ اسٹریمنگ سروسز مہیا کرنے والے پلیٹ فارمز اور غیرہندی زبان کی فلمیں اس کی چکاچوند کو گہنا رہی ہیں۔
جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹری ہر سال تقریباً1600 فلمیں بناتی ہے جوکہ کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ہیں۔ان میں زیادہ تر فلمیں بالی ووڈ میں بنتی ہیں ، شائقین دیوتاؤں کی طرح فلمی ستاروں کی پوجا کرتے ہیں اور پریمیئرز یمں ہجوم کا ہجوم ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
آسکر کیلیے نامزد بھارتی فلم چھیلو شو کا اہم کردار 10سال کی عمر میں چل بسا
اے ایف پی کے مطابق لیکن اب سنیما گھر وں میں خاموشی چھاگئی ہے ، یہاں تک کہ بالی ووڈ کے اعصابی مرکز ممبئی میں بھی کرونا کی پابندیوں کے خاتمے کے بعد بھی باکس آفس کی آمدنی مسلسل گررہی ہے ۔
ممبئی کے تجربہ کار تھیٹر کے مالک منوج دیسائی نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’’یہ اب تک کا بدترین بحران ہے، کچھ اسکریننگ اس لیے منسوخ کردی گئیں کیونکہ عوام وہاں نہیں تھے “۔
عام طور پر نفع بخش سمجھے جانے والے میگا اسٹار اکشے کمار کی لگاتار تین فلمیں ناکامی سے دوچارہوئیں ۔صف اول میں شمار ہونے والے ان کے ساتھی اداکار عامر خان جنہیں بھارت کی کچھ کامیاب فلموں کا چہرہ تصور کیا جاتا ہے، بلاک بسٹر ہالی ووڈ فلم فاریسٹ گمپ کے آفیشل ہندی ری میک لال سنگھ چڈھا کے ذریعے ناظرین کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔
ایلارا کیپیٹل کے تجزیہ کار کرن تورانی نے کہا کہ پچھلے سال ریلیز ہونے والی بالی ووڈ کی 50 سے زیادہ فلموں ( وبائی امراض کی وجہ سے معمول سے کم) کے اعداد وشمار پر نظر ڈالی جائے تو ہر پانچ میں سے صرف ایک فلم ہی آمدنی کا ہدف پورا کرسکی یا اس سے آگے نکل سکی۔ جبکہ وبائی مرض سے پہلے یہ شرح 50 فیصد تھی ۔اس کے برعکس کئی ٹالی ووڈ فلمیں ( تیلگو زبان کی فلمیں) کمائی کے معاملے میں سرفہرست رہیں۔
اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی چیف اکانومی ایڈوائزرسومیا کانتی گھوش نے ایک حالیہ رپورٹ میں کہا کہ شرمناک بات یہ ہے کہ جنوری 2021 سے اس سال اگست تک ہندی باکس آفس پر ریلیز ہونے والی تقریباً نصف فلمیں جنوبی زبانوں سے ہندی میں ڈب کی گئی تھیں۔گھوش نے لکھا کہ لگتا ہے کہ کئی دہائیوں کی کہانی سنانے کے بعد بالی ووڈپرایسا مشکل وقت آیا ہے جس کا اس نے کبھی سامنا نہیں کیا۔
اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کا عروج بالی ووڈ کے زوال کی وجہ بنا
بالی ووڈ دیگر فلمی صنعتوں کی طرح اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے عروج سے متاثر ہوا ہے، جو وبائی مرض سے پہلے شروع ہوئے تھے لیکن انہیں مقبولیت اس وقت ملی جب لاکھوں بھارتی گھروں میں رہنے پر مجبور کیے گئے ۔
حکومتی اندازے کے مطابق ہندوستان کی تقریباً نصف آبادی کو انٹرنیٹ اور اسٹریمنگ سروسز بشمول نیٹ فلکس، ایمازون پرائم، ڈزنی پلس ہاٹ اسٹار تک رسائی حاصل ہے جن کے پاس9 کروڑ 60لاکھ سبسکرپشنز ہیں۔
کرونا لاک ڈاؤن کے دوران ریلیز ہونے والی کچھ فلمیں براہ راست ان پلیٹ فارمز پر چلی گئیں جبکہ تھیٹرزمیں ریلیز ہونے والی دیگر فلمیں ریلیز ہونے کےچند دنوں بعد ہی چھوٹی اسکرینوں پر آگئیں ۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسٹریمنگ کی ماہانہ سبسکرپشن فیس ایک ٹکٹ کی قیمت سے کم یا اس کے مساوی ہے، سنگل اسکرین سنیما گھروں کا ٹکٹ 100 سے 200 بھارتی روپے(1.20سے 2.5ڈالر) اور ملٹی پلیکس میں اسے بھی زیادہ قیمت ہونے کی وجہ سے ناظرین تھیٹرز میں جانے سے گریز کررہےہیں۔
یہ وقت اتنا مشکل ہے کہ بھارت کے دو سب سے بڑے ملٹی پلیکس آپریٹرزINOXاور PVRنے مارچ میں گنجائش پیدا کرنے کیلیے انضمام کا اعلان کردیا۔اس دوران سبسکرائبرز مقامی اور بین الاقوامی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے موادسے روشناس ہوئے جن میں جنوبی تیلگو، تامل، ملیالم اور کناڈا زبانوں کی فلمیں بھی شامل تھیں جو پہلے ناظرین کی بڑی تعداد رکھتی تھیں۔

عام آدمی کے بجائے خواص کی فلمیں بنانا بھی فلم بینوں کو پسند نہیں آرہا
فلمی ناقد راجہ سین کا کہنا ہے کہ”علاقائی سنیما اپنی سرحدوں سے آگے نہیں بڑھ رہا تھا۔ لیکن اب اچانک ہر کوئی ملیالم سنیما یا مہاراشٹری سنیما دیکھ رہا ہے اور پھر آپ کو احساس ہوا کہ ایسے فلمساز ہیں جو زیادہ دلچسپ کہانیاں سنا رہے ہیں‘‘۔
”پھرفلم بینوں نے دیکھا کہ ایک اسٹار ایک ہندی بلاک بسٹر فلم کے ساتھ آرہا ہے اور ایک ایسی کہانی سنارہا ہے جو انہوں نے 10 لاکھ مرتبہ سن رہی ہے تووہ اس سے متاثرنہیں ہوئے “۔
یہ بھی پڑھیے
دھونی نے پروڈکش ہاؤس کھول لیا، علاقائی زبانوں میں فلمیں بنائیں گے
ناقدین نے بالی ووڈ پر اشرافیہ کی فلمیں بنانے کا الزام بھی لگایا جو کسی ایسے ملک میں نہیں جچتیں جہاں کی 70 فیصد آبادی شہروں سے باہر رہتی ہے۔عامر خان نے لال سنگھ چڈھا کی تشہیر کے دوران اس بات کا اعترا ف کیا کہ ہندی فلم ساز جس چیز کے انتخاب کو اپنے لیے مناسب سمجھتے ہیں شاید ناظرین اس انتخاب کو اپنے لیے اتنا مناسب نہیں سمجھتے “۔
اسی دوران ٹالی ووڈ کی کامیاب ترین فلموں”پشپا: دی رائز“اور”آر آر آر “میں عام آدمی کی بہادری د کھائی گئی جبکہ دلکش گانوں اور رقص کے ساتھ سامعین کو متاثرکن تفریح کا سامان مہیا کیا ۔اس طرح کے فارمولے طویل عرصے سے بالی ووڈ استعمال ہوتے رہے ہیں لیکن فلمی ناقدین کا کہنا ہے کہ جنوب کے فلم ساز ان کا زیادہ موثر استعمال کررہے ہیں ۔
ملٹی تھیٹر آپریٹر اور تجارتی تجزیہ کار اکشے راٹھی نے کہاکہ”لوگوں کو سینما گھروں تک لانے کے لیے ہمیں کہانی سنانے کاایسا انداز اپنانے کی ضرورت ہے جسے گھر پر نقل نہیں کیاجاسکے “۔
انہوں کہا کہ”ہمیں ان کے وقت، پیسے اور کوشش کا احترام کرنے کی ضرورت ہے اور جب بھی ہم کسی خاص فلم کیلیے ایسا کرتے ہیں تو وہ بڑی تعداد میں سامنے آتے ہیں“۔
بالی ووڈ کی موجودہ صورتحال کو خطرناک قرار دینے والے تورانی نے کہاکہ” ایک اسٹار کو مرکزی کردار کے طور کاسٹ کر نا اب باکس آفس پر کامیابی کی ضمانت نہیں رہا“۔
انہوں نے مزید کہا کہم”یرے خیال میں ناظرین واضح طور پر اسٹار چاہتے ہیں، لیکن ناظرین چاہتے ہیں کہ اسٹار کو ایسی فلم میں دکھایا جائے جس میں زبردست مواد ہو“۔
انڈین ایکسپریس نے اگست میں ”ون مین انڈسٹری “کے نام سےمشہور کمار سے اس موضوع پر گفتگو کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ڈرائنگ بورڈ میں واپس جا رہے ہیں،اگر میری فلمیں نہیں چل رہی ہیں تو یہ ہماری غلطی ہے، یہ میری غلطی ہے،مجھے تبدیلیاں لانا ہوں گی، مجھے سمجھنا ہوگا کہ ناظرین کیا چاہتے ہیں ‘‘۔
ہندو انتہا پسندوں کی بائیکاٹ مہم بھی بالی ووڈ کو متاثر کررہی ہے
بالی ووڈ کی فلموں کی ناکامی کی ایک وجہ بائیکاٹ مہم بھی ہے۔دائیں بازو کے ہندوؤں کی جانب سے فاریسٹ گمپ سمیت بعض فلموں کے خلاف سوشل میڈیا پر بار بار مہم چلائی گئی ہے ۔
حال ہی میں دائیں بازو کے ہندوؤں کی جانب سے سپر اسٹار رنبیر کپور کے کچھ سال پہلےگائے کا گوشت کھانے سے متعلق بیان کو جواز بناکر انکی نئی فلم”براہمسترا“ کے بائیکاٹ کے مطالبات سامنے آئے تھے۔ گائے کو ہندوؤں میں مقدس سمجھا جاتا ہے۔ لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بائیکاٹ کےشور شرابے کے باوجود باکس آفس پر فلم کو نقصان نہیں ہوا، براہمسترا نے حقیقت میں اچھا بزنس کیا ہے۔
ممبئی میں ایک سنیما کے باہر فلم دیکھنے والوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ اصل مسئلہ یہ تھا کہ بالی ووڈ کی بہت سی فلمیں کافی اچھی نہیں تھیں۔22 سالہ طالبہ پریتی ساونت نے کہاکہ ”کہانی اچھی ہونی چاہیےاورمواد اچھا ہونا چاہیے تاکہ لوگ دیکھنا چاہیں۔اسی لیے لوگ فلمیں دیکھنے نہیں آ رہے “۔









