علی ظفر نے ایوارڈ فنکشز کو تنازعات سے بچانے کا جدید نسخہ تجویز کردیا

میرا انتہائی عاجزانہ اور تعمیری  مشورہ ہے کہ ایوارڈز اور نامزدگیوں میں تنازعات سے بچنے کیلیے اعداد و شمار جمع کرنے کے جدید ذرائع اور مصنوعی ذہانت پر مشتمل تجزیے کا استعمال کریں، گلوکار و اداکار

پاکستان شوبز انڈسٹری کے مایہ ناز گلوکار و اداکار علی ظفر نے لک اسٹائل ایوارڈز سمیت ایوارڈ فنکشنز کے منتظمین کو تنازعات سے بچنے کا جدید نسخہ تجویز کردیا۔

علی ظفر نے اپنی قیمتی آرا پر مشتمل ایک ٹوئٹر تھریڈ تحریر کیا ہے جسے صارفین کی جانب سے خاصہ سراہا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

میشا شفیع اور زیب بنگش کا لکس اسٹائل ایوارڈز کی نامزدگیوں پر احتجاج

علی ظفر کی میشا شفیع کیلیے جلد جوڑوں کے درد سے نجات کی دعا

علی ظفر نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ لکس اسٹائل ایوارڈز اور دیگر ایوارڈ فنکشنزکو میرا انتہائی عاجزانہ اور تعمیری  مشورہ ہے کہ ایوارڈز اور نامزدگیوں میں تنازعات سے بچنے کیلیے اعداد و شمار جمع کرنے کے جدید ذرائع اور مصنوعی ذہانت پر مشتمل تجزیے کا استعمال کریں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ مختلف شعبہ جات میں  فن کا کون سا نمونہ  مطلوبہ جمالیاتی معیار پر پورا اترتا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ جدید دنیامیں سادہ اور درست اعداد و شمار پر مشتمل تجزیوں کی موجودگی میں لوگوں کی آرا کی بنیاد پرجیوری کے ذریعے فیصلے کرنے کا تصور  مستند یا متعلقہ نہیں سمجھا جا سکتا ہے۔ لوگ تعصبات  کی وجہ سے محدود ہوتے ہیں، فنکار ذاتی ذوق ، نقاد موضوعیت اور  مشہور شخصیات اپنی انا کی وجہ سے محدود ہوتی ہیں ۔

علی ظفر نے مزید کہا کہ”میں یہ اس لیے کہتا ہوں کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ یہ ایوارڈ شوز ہمارے معاشرے میں فن اور ثقافت کو متحرک رکھنے کے لیے اہم ہیں اور مصنوعات نے اس کی حمایت میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے،’کس کو اور کیسے عزت دی جائے‘ کی حرکیات کو پورے عمل کو متنازع نہیں بنانا چاہیے، سب سے بہتر یہ ہے کہ الگ ہو جائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ تخلیق کاروں کو   نئے، نوجوان اورکاروباری  تخلیقی ہدایت کار  اور فنکار وغیرہ  دیے جائیں،  ان کو شامل کریں۔ نوجوانوں کے پاس ہمیشہ نئے نئے خیالات ہوں گے  اور وہ خود کو ثابت کرنے کا موقع ڈھونڈ رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ  سب سے اہم چیز اس عمل سے لطف اندوز ہونا ہے ،فن اور تخلیق کو بغیر کسی روک ٹوک کے پنپنا چاہیے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں لکس اسٹائل ایوارڈز کی نامزدگیاں سامنے آنے کے بعد بہتیرن گلوکار کے شعبے کسی گلوکارہ کو نامزد نہ کرنے پر تنازع کھڑا ہوگیا تھا۔ گلوکارہ میشا شفیع اور زیب بنگش نے ایوارڈ کے منتظمین اور منصفین پر صنفی امتیاز برتنے کا الزام عائد کیا تھا۔

متعلقہ تحاریر