فیروز خان نے ڈھائی ماہ سے بچوں کا خرچہ نہیں دیا، وکیل علیزا سلطان
فیروز خان پیشی پر نہیں آئے، عدالت نے وکیل کی جانب سے جمع کرایا گیا بیان مسترد کردیا، اداکار کے وکیل کا علیزا سلطان پر جعلی دستاویز سے عدالت کو گمراہ کرنے کا الزام، خاتون کے بھائی نےتشدد کے مزید ثبوت ہونے کا دعویٰ کردیا۔

اداکار فیروز خان اور ان کی سابق اہلیہ علیزا سلطان کے درمیان عدالتی جنگ شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔علیزا سلطان کے وکیل نے فیروز خان پر ڈھائی ماہ سے بچوں کا خرچ نہ دینے کا الزام عائد کردیا۔
فیروز خان نے سابقہ اہلیہ پر جھوٹے شواہد جمع کراکےعدالت کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کردیا جبکہ علیزہ سلطان کے بھائی کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس بہت تصویریں موجود ہیں، ہم سامنے لانا نہیں چاہتے جو تصویریں سامنےآئی ہیں وہ بھی پبلک ڈاکیومنٹ ہونے کی وجہ سے کورٹ سے باہر آئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
انڈسٹری سے شدید مخالفت کے باوجود فیروز خان کو پرستاروں کی حمایت حاصل
میرا سیٹھی اداکار فیروز خان کے سابق سسر کی تکلیف دہ گفتگو سامنے لے آئیں
یکم نومبر کو سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران علیزا سلطان کے بھائی کا کہنا تھا کہ ابتدائی بیان پر فیروز خان کی جانب سے ہمارے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی جس میں ہم پر گھٹیا الزامات لگائے گئے تھے، انہوں نے علیزا کے لیے ذہنی طور پر بیمار ہونے کے الزامات عائد کیے، کیوں کہ فیروز علیزا کے بچوں کا باپ ہے اس لیے ہم انتظار کررہے تھے ، انسان جب کسی تعلق میں ہوتا ہے وہ سمجھوتہ کررہا ہوتا ہے۔
View this post on Instagram
علیزا کے بھائی کے مطابق ہم نے علیزا پر تشدد کی 4،5 تصاویر کورٹ میں پیش کی ہیں، اس کے علاوہ بھی ہمارے پاس بہت کچھ ہے لیکن ہم نہیں چاہیں گے ایسی چیزیں سامنے آئیں، یہ تصاویر بھی کورٹ میں پیش کی گئی تھیں جو پبلک ڈاکیومنٹ ہونے کی وجہ سے باہر آگئیں۔
علیزا کے بھائی کا مزید کہنا تھا کہ ان تصاویر پر فیروز کی جانب سے عدالت میں کوئی بیان نہیں دیا گیا اور مؤقف اختیار کیا گیا کہ آنکھ پر الرجی بھی ہوجاتی ہے لیکن اگر الرجی ہو تو سوجن نہیں آتی ، اگر فیروز چاہے تو ان تصاویر کا فارنزک بھی کرواسکتے ہیں۔
دوسری جانب فیروز خان نے سابقہ اہلیہ علیزا سلطان کیخلاف گمراہ کن شواہد جمع کرانے کا الزام عائد کردیا۔فیروز خان کے وکیل نے عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ علیزا سلطان نے فیروز خان پر تشدد اور بندوق کے زور پر مارنے کی دھمکیاں دینے کا جو الزام لگایا تھا وہ درخواست کبھی درخشاں تھانے میں کبھی جمع نہیں ہوئی۔
View this post on Instagram
انہوں نے کہاکہ علیزا کے وکیل نے کہا کہ وہ درخواست کا ڈرافٹ تھا، لیکن دنیا میں کہیں کسی دستاویز کا ڈرافٹ جمع نہیں ہوتا ، ہمیشہ دستخط شدہ دستاویز جمع ہوتی ہے ، یہ عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش تھی، انہوں نے کہاکہ علیزا سلطان نے جو درخشاں تھانے میں جودرخواست جمع کرائی تھی نہ وہ دستخط شدہ تھی، نہ اس پر تاریخ درج تھی اور نہ ہی اس پر وصول کرنے والے کے دستخط تھے، وہ عدالتو کو گمراہ کرنے کی کوشش تھھی،ہم چاہیں توعدالت کو گمراہ کرنے پر ان کیخلاف قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتے ہیں مگر ہم ایسا نہیں کریں گے کیونکہ وہ بچوں کی ماں ہیں، ہم تو چاہتے ہیں کہ مسئلہ حل ہو۔
فیروز خان کے وکیل نے اداکارہ عشنا شاہ، اقرا عزیز ،ایمن اور منال سمیت شوبز انڈسٹری سے انصاف کا ساتھ دینے کی اپیل کی ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آزادی اظہار کا حق ہے، فیصلہ سنانے کا حق نہیں ہے۔
دوسری جانب علیزا سلطان کے وکیل نے کہا ہے کہ ہم نے کوئی ہتک عزت نہیں کی، ہم نے ساری قانونی دستاویزات انسٹاگرام پر لگائی ہیں، ہم تمام دستاویزات بطور ثبوت عدالت میں جمع کرائی ہیں۔ہم بچوں کی بہبود کی وجہ سے کرمنل کورٹ اور فوجداری قانون کی طرف نہیں گئے۔
View this post on Instagram
انہوں نے کہاکہ ہم نے عدالت میں 4 دستاویزات جمع کرائی ہیں، پہلی یہ کہ ہم پولیس کے پاس گئے کہ ہم پر تشدد ہوا ہے، پولیس نے ہمیں ایم ایل او کے پاس بھیجا ، آپ تھانے جائیں وہاں سب ریکارڈ ملےگاجو کہ 100 فیصد مستند ہے، پھر ہم طبی معائنے کیلیے گئے وہاں طبی معائنہ ہو ااس کی پورٹ ملی جو کہ مستندہے، آپ اسپتال جاکر تصدیق کروائیں مگر وہ بغیر تصدیق عدالت چلے گئے۔
علیزا کے وکیل نے مزید کہا کہ ہماری تیسری دستاویز ایم ایل او سرٹیفکیٹ ہےا گراس پر کوئی شک ہے تو عدالت میں اس کیخلاف کوئی ثبوت لیکر آئیں ۔انہوں نےکہا کہ چوتھا ثبوت علیزا کی درخواست کا وہ ڈرافٹ ہے جو ایم ایل او رپورٹ کے بعد تھانے کے عملے نے بنایا تھا جس پر دستخط کے بعد وہ تھانے میں جمع ہونا تھا لیکن چونکہ اس وقت علیزا کی شادی برقرار تھی اس لیے انہوں نےبچوں کی وجہ سے سمجھوتا کرنے کیلیے عین وقت پر وہ درخواست واپس لے لی۔
View this post on Instagram
وکیل نے کہا کہ ہم نے عدالت میں بھی وضاحت کردی ہے کہ تشدد ثابت ہونے کے باوجود علیزا نے سمجھوتا کرنے کیلیےعین وقت پر درخواست واپس لی تھی ،اس میں کچھ گمراہ کن نہیں ہے، ہم نے عدالت میں وضاحت کی ہے کہ وہ ڈرافٹ تھا ، عدالت میں درخواست جمع نہیں کرائی۔
علیزا سلطان کے وکیل نے الزام عائد کیا کہ فیروز خان نے ڈھائی ماہ سے بچوں کا خرچ نہیں دیا، فیروز خان عدالت بھی نہیں آئے جبکہ وکیل کی جانب سے جمع کرایا گیا ان کا بیان عدالت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مسترد کردیا۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے 29 نومبر کی تاریخ مل رہی تھی لیکن عدالت چاہتی ہے کہ بچوں کا نان نفقہ فوری شروع ہوجائے اس لیے عدالت نے اب 5 نومبر کی تاریخ دی ہے۔









