لکس اسٹائل ایوارڈز میں قومی ترانے کا” نیا اسٹائل“ تنازع کا باعث بن گیا

عدنان صدیقی نے شہزاد رائے اور وہاب بگٹی کی جانب سے پیش کیے گئے نئے انداز کو قومی ترانے کی توہین قرار دیدیا، سجل علی، انوشے اشرف اور فرحان سعید نے عدنان صدیقی کے خیالات سے اختلاف کردیا۔

لکس اسٹائل ایوارڈز میں  گلوکار شہزاد رائے اور وہاب بگٹی کی جانب سے پیش کیا گیا قومی ترانے کا” نیا اسٹائل“ تنازع کا باعث بن گیا۔اداکار عدنان صدیقی  کو قومی ترانے کے روایتی انداز سے چھیڑ چھاڑ پسند نہیں آئی اور انہوں نے اسے قومی ترانے کی توہین قرار دیدیا۔

تاہم اداکارہ سجل علی،انوشے اشرف اور  گلوکار واداکار فرحان سعید کو عدنان صدیقی کے خیالات کچھ خاص پسندنہیں آئے۔

یہ بھی پڑھیے

لاہور میں تنازعات سے بھرپور لکس اسٹائل ایوارڈز کا انعقاد

میشا شفیع اور زیب بنگش کا لکس اسٹائل ایوارڈز کی نامزدگیوں پر احتجاج

اداکار عدنان صدیقی نے انسٹاگرام پر لکس اسٹائل ایوارڈ میں گلوکار شہزاد رائے اور وہاب بگٹی کی جانب سے پیش کیے گئے نئے انداز کے قومی ترانے  کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ ”کیا ہمارے قومی ترانے  کیلیے تخلیقی آزادی اختیار کرنا مناسب ہے، جو ہمارے اندر جذبہ حب الوطنی  کوابھارنے اور ہمارے قومی وقار کو   کو یاد دلانے کے لیے بنایا گیا تھا؟ “۔

View this post on Instagram

A post shared by Adnan Siddiqui (@adnansid1)

عدنان صدیقی نے مزید لکھا کہ”کیا ہمارا آئین کسی کو تخلیقی صلاحیتوں کی آڑ میں ترانہ کو بہتر بنانےیا ری مکس کرنے کی اجازت دیتا ہے؟ یہ ہمیشہ میچوں، ٹورنامنٹس اور  دیگر ریاستی تقریبات میں اصل حالت میں پیش کیا جاتا ہے   “۔

اداکار نے کہاکہ” ایک مشہور ایوارڈ شو میں فنکار نے  قومی  علامت  کی ناقدری کی ہے،ذاتی طور پر، مجھے ترانہ کا ’ریمکس‘ بے عزتی کے متراف  لگتا ہے، آپ کے کیا خیالات ہیں؟“۔

اداکارہ سجل علی نے تقریب میں پیش کیے گئے قومی ترانے کی وڈیو کوانسٹاگرام پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ” ایک پاکستانی اور ایک فنکار کے طور پر میں نے اپنے ملک کے تنوع کو قومی ترانے کے خوبصورت انداز میں پیش کیا۔ میں نے اسے پرسکون پایا“۔

View this post on Instagram

A post shared by Sajal Ali (@sajalaly)

انہوں نے کہا کہ ”شہزاد رائے اور وہاب بگٹی نے کوئی قانون نہیں توڑا۔ انہوں نے کسی پروٹوکول کی خلاف ورزی نہیں کی۔ ان کا گانا ہمارے آئین کی اقدار کی عکاسی کرتا تھا اور اصل ترانے پر قائم رہا“۔

اداکارہ نے عدنان صدیقی کا نام لیے بغیر  لکھا کہ  آپ نے خیالات کے لیے پوچھا،یہ میرے  خیالات ہیں،بلا جھجھک اختلاف کریں۔

اداکارہ نے اپنی انسٹااسٹوری میں  مزید لکھا کہ پاکستان کا تنوع اسے خوبصورت بناتا ہے۔ قومی ترانے کانیاانداز  جس میں تاریخی طور پر پسماندہ طبقوں کو شامل کیا گیا ہے، اپنے ملک اور اس کے لوگوں سے محبت کے اظہار کیلیے ایک سخت اور یکتا خیال مسلط کرنے سے کہیں زیادہ محب وطن ہے۔

انہوں نے لکھا کہ  آئیے ہم پولیسنگ کرنا چھوڑ دیں کہ ہم اپنی حب الوطنی کا اظہار کیسے کرتے ہیں، ہمارا آئین ملک میں موجود بہت سی نسلوں، زبانوں اور ثقافتوں کو تسلیم کرتا ہے ،ہم ایسا کب کریں گے؟

سجل علی کی انسٹاگرام پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے صدف کنول نےپسندیدگی کا اظہار کیا جبکہ انوشے اشرف نے لکھا کہ میں تم  سے بالکل متفق ہوں۔ بہت سے ممالک میں اصل ترانے کو مختلف انداز میں پیش کیا جاتا ہے بس اسے شائستگی اور قبولیت کے دائر ے میں رکھاجاتا ہے ۔

اداکار عدنان صدیقی نے اپنی رائے پر قائم رہتے ہوئے سجل علی کے خیالات سے اختلاف کیا۔ انہوں نے  اپنی انسٹااسٹوریز میں سجل علی کو مخاطب کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ”تاریخی طور پر پسماندہ گروہ“ ہمارے قومی وقار کی اساس  میں   مداخلت کیے بغیر اپنے حب الوطنی کے جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ” میں کسی  فنکاروں کی نسل یا ان کی یا کسی کی حب الوطنی پر روشنی نہیں ڈال رہا ،میری بے چینی کی وکہ قومی ترانے کے ساتھ لاپروائی اور تخلیقی حد سے زیادہ جوش و خروش ہے۔سجل علی  ہو سکتا ہے کہ آپ اس پوسٹ کو دوبارہ دیکھنا چاہیں کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ آپ نے پوائنٹ کو کھو دیا ہے“۔

لکس اسٹائل ایوارڈز

عدنان صدیقی نے مزید کہا کہ قومی علامتوں کے لیے پروٹوکول کی پیروی کی جاتی ہے، ان کا اتنا احترام کیا جاتا ہے کہ قومی علامتوں کے پہلے حروف تہجی بڑے حروف میں لکھے جائیں۔

لکس اسٹائل ایوارڈز

انہوں نے مزید کہا کہ اب مزید کیا کرنا  ہے کیونکہ ہم تخلیقی ہیں اور ہمیں تنوع کا جشن منانا چاہئے؟ قومی پرچم کو الٹا لہرائیں اورعلامت کا اپنا ورژن ڈیزائن کریں؟عدنان صدیقی نے مزید لکھا کہ سادہ  لفظوں  میں  کہوں تو میں نے فنکاروں یا ان کی نسل کا ذکر نہیں کیا،جب کچھ ہے ہی نہیں  تو غیر ضروری تنازع کیوں کھڑا کریں؟پرسکون ہوجائین۔

لکس اسٹائل ایوارڈز

ادھر اداکار فرحان سعید بھی عدنان صدیقی کے خیالات سے اختلاف کرتے ہوئے اپنی انسٹااسٹوری میں لکھا ہے کہ عدنان صدیقی میں واقعی میں آپ کا احترام کرتا ہوں اور جانتا ہوں کہ آپ کبھی بھی ایسا کچھ نہیں کرتے جس سے کسی کو تکلیف پہنچے یا صرف پوائنٹس حاصل کریں، آپ نے شاید اسے محسوس کیا  لیکن خدا کا واسطہ آخری چیز جو ہم چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ پاکستان کی”یہ نہیں کرنا  “فہرست میں ایک اور چیز کا اضافہ نہ کیا جائے۔ یہ خوبصورت ہے، اس کا لطف اٹھائیں۔

متعلقہ تحاریر