علی ظفر نے معیشت کی تباہی کے ذمےداروں کے نام اور بحالی کا منصوبہ مانگ لیا

ہم پچپن سے یہ دیکھتے آرہے ہیں کہ ایک حکومت آتی ہے اور کہتی ہے کہ پچھلی نے بیڑا غرق کردیا، گلوکار کی سیاستدانوں کو معیشت پر مثبت مذاکرے کی پیشکش

 ملک میں کمر توڑ مہنگائی،روپے کی ناقدری اور معیشت کی تباہی نے ہرشخص کو پریشانی میں مبتلا کررکھا ہے۔ ملک کے حساس ترین طبقے فنکاروں سے تعلق رکھنے والے گلوکار علی ظفر بھی معیشت کی تباہی پر فکرمند ہیں۔

علی ظفر نے ملک کے موجودہ اور سابقہ وزرائے خزانہ سے معیشت کی تباہی کی ذمے دار حکومتوں اور شخصیات کے نام اور معیشت کی بحالی کا منصوبہ پیش کرنے کا مطالبہ کردیا۔

یہ بھی پڑھیے

علی ظفر نے پرستاروں کو موسیقی کے ذریعے ذہنی تناؤ سے چھٹکارے کا گُر بتادیا

عاطف اسلم رواں سال اسپاٹیفائی پر سب سے زیادہ سنے جانےوالے پاکستانی گلوکار قرار

گلوکار نے اپنے ٹوئٹرہینڈل ایک صوتی پیغام جاری کرتے ہوئے حزب اقتدار و حزب اختلاف کو معیشت کی بحالی کیلیے مثبت بحث کی دعوت بھی دیدی۔

علی ظفر نے اپنے پیغام میں کہاکہ”ٹوئٹر کی دنیا کے باسیو!ایک عام  پاکستانی شہری اور محب وطن  ہونے کے ناطے چندعاجزانہ   خیالات اور سوالات تھے سوچا یہاں پر رکھوں،  ملک کے وزیرخزانہ اور سابق وزیرخزانہ سے  بھی یہ سمجھنا اور  پوچھنا چاہتاہوں کہ پاکستان کی معیشت جس نہج پر آکھڑی ہوئی ہےاسے یہاں تک پہنچانے میں کس کایاکس کس کا ہاتھ ہے؟“۔

انہوں نے کہاکہ” ہم کنفیوز ہوجاتے ہیں کہ جب کو ئی نئی حکومت آتی ہے تو اس کے نمائندے پچھلی حکومت پرالزام عائد کرتے ہیں اور جو حکومت سے باہر ہوتے ہیں وہ حکومت کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جب ہم آئیں گے تو جادو کی چھڑی گھمائیں گے اور سب ٹھیک ہوجائے گا لیکن ایسا کچھ  نہیں ہوتا نہیں ہے نہ کبھی ایسا ہوا،  بہت  کم ایسے مواقع تھے جب ملک کسی اچھی  طرف  گامزن ہوا لیکن ایسے بہت کم  مواقع تھے۔تویہ کڑی جو پچھلے کئی دہائیوں سے چلی آرہی ہے“۔

علی نے مزیدسوال کیا کہ” اس میں کسی ایک شخص کا  یا کسی ایک حکومت کا قصور ہے یایہ ایک مجموعی  رجحان ہے، اس سے کیسے نکلا جاسکتا ہے، اس پر ایک تعلیمی اور مثبت بحث کی ضرورت ہے جوکہ  صرف ہندسوں اور تجزیات پر مبنی ہونہ کہ جذبات ، گالم گلوچ اور بلیم گیم پر مشتمل ہو“۔

علی ظفر نے کہا کہ” ہم پچپن سے یہ دیکھتے آرہے ہیں کہ ایک حکومت آتی ہے اور کہتی ہے کہ پچھلی نے بیڑا غرق کردیا۔گلوکار نے کہا کہ ہمیں کاغذوں پر کوئی منصوبہ بتادیں کہ اسے ملک ٹھیک کردیں گے اور اتنے سالوں میں ملک ترقی اور خوشحالی کی جانب  گامزن ہوجائے گا۔تومنصوبہ کہاں ہے؟“۔

متعلقہ تحاریر