بلڈرز مافیا کراچی کی ایک اور تاریخی عمارت نگل گیا

 سولجر بازار میں ریلوے کوارٹرز میں رہائشی منصوبے گرینڈ ایلیٹ کی تعمیر کیلیے تاریخی بنگلے کو منہدم کردیا گیا،ماہر تعمیرات ماروی مظہر کا انکشاف

بلڈرز مافیا کراچی کی ایک اور تاریخی عمارت نگل گیا، معروف  ماہر تعمیرات وورثہ ماروی مظہر نےا نکشاف کیا ہے کہ بلڈرز مافیا نے  کراچی کے سولجر بازار میں واقع تاریخی  عمارت کو منہدم کردیا  ہے۔
انہوں نے ہیریٹیج ریگولیشنز کی خلاف ورزی پر نظر نہ رکھنے پر محکمہ ثقافت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

لینڈ مافیا منظم انداز میں غیر قانونی عمارات کی تعمیر میں ملوث
کراچی میں قبضہ مافیا سیاسی سرپرستی میں سرگرم

ماروی مظہر نے ٹویٹر تھریڈ میں لکھاکہ وہ  کچھ عرصے سے  کراچی میں تاریخی ورثے کی توڑ پھوڑ پر خاموش  تھیں لیکن کل انہیں ایک بار پھر کراچی کے مستقبل کے لیے درد محسوس ہوا۔انہوں نے بتایا کہ 2019 میں بلڈرز مافیا کی ایک سرکردہ شخصیت ان کے پاس پاس این او سی مانگنے آئی تاکہ سولجر بازار میں شاہانی اسٹریٹ پرواقع ریلوے کی ملکیتی زمین پر ورثہ قرار دی گئی عمارت کی جگہ وہ نئی  بلند عمارت تعمیر کرسکے جس پر انہوں نے اسے این او سی دینے سے انکار کردیا۔

demolished heritage building, بلڈرز مافیا

ماروی مظہر کے مطابق  انہوں نے بلڈر سے کہا اگر وہ تاریخی عمارت کے  احاطے کو  اپنے ڈیزائن میں شامل نہیں کریں گے، تو وہ  این او سی کے لیے  کارروائی شروع نہیں کریں گی ۔انہوں نے مزید لکھا کہ انہیں محکمہ ثقافت پر بھروسہ تھا  کہ وہ اس ورثے  کو ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے اور یقین کی بنیاد پر انہوں نے اس عمارت کو دستاویزی تحفظ دینے کیلیے کام شروع کردیا۔

ماروی مظہر کے مطابق گزشتہ دنوں ایک انہیں بتایا کہ وہ جس عمارت پر 2019 سے کام کررہی تھیں وہ ختم  کردی گئی ہے۔ ایک  سال کے وقفے کے بعد شہر پہلے سے زیادہ ٹوٹا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ورثہ  وہ آخری باب ہے جسے یہ شہر برقرار رکھ سکتا ہے۔ ماہر تعمیرات نے وزیراعلیٰ سندھ اور وزیرثقافت سے معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

انہوں نے سندھ کے ہیریٹیج ریگولیشنز کی خلاف ورزی کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے پر حکام کی سرزنش کی۔ انہوں نے مزید لکھا  کہ ہم نے جو اعتراضات اور متعدد تجاویز پیش کی ہیں وہ اب  بھی خالی برتنوں کی طرح لگتے ہیں۔

ماروی مظہر نے سولجر بازار میں  منہدم کی گئی تاریخی  عمارت کی جگہ رکھے گئے نئے رہائشی منصوبے  گرینڈ ایلیٹ  کے کنٹینر کی تصویر شیئر کرتے ہوئے سوال کیاکہ  کیا وزیر ثقافت اس  توڑ پھوڑ کا نوٹس لیں گے؟

ماروی مظہر کے مطابق  جب انہیں ریلوے کوارٹر زمیں واقع اس تاریخی بنگلے تک رسائی ملی تو انہوں نے فوری  طور  پر ایک تحقیق تیار کی جسے ”کراچی میں منگلور ٹائلز کا کیس“کا نام دیا گیا تھا۔انہوں نے لکھا کہ انہیں اس عمارت میں ایسے شواہد ملے تھے جو ناقابل یقین تاریخ کو ظاہر کرتے ہیں۔

ماروی مظہر نے اکتوبر 2016 کا اپنا مضمون بھی شیئر کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ میک نیل روڈ، ریلوے کوارٹرز، کراچی پر اولڈ ریس کورس گراؤنڈ کے سامنے ایک بنگلے (پلاٹ نمبر FT-2/13) سے سرخ مٹی کی ٹائلیں ملی ہیں۔ماری مظہرنےمزید لکھا کہ  شہروں میں تاریخی عمارتوں کو مٹانے سے تاریخی شواہد اور علم کا بڑا نقصان ہوتا ہے۔ کراچی  میں ورثہ قوانین  پر عمل درآمد کے بجائے ایک لحاظ سے یہ عمل  الٹی سمت میں چلا گیا ہے۔

انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ،ایڈمنسٹریٹر کراچی اورمحکمہ ثقافت کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ تعمیراتی قوانین میں  شہر کی پہچان سمجھی جانے والی نشانیوں کو برقرار رکھنے  کی اجازت ہونی چاہیے  تاکہ  ترقیاتی کاموں  کے باوجود  پرانی تعمیرات شہر کی شناخت میں اپنا  کردار ادا کرسکیں۔

انہوں نے تاریخی بنگلے کی جگہ کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ  اس ورثے کو  کو گرا دیا گیا ہے  اور زمین  ہموار ہوچکی ہے اور یوں کراچی کا ایک اور تاریخی بنگلہ ختم ہوگیا۔انہوں نے لکھا کہ ورثہ قوانین اور  ضوابط پر شرم آتی ہے۔

متعلقہ تحاریر