چیٹ جی پی ٹی کا اے لیولز کے طلبہ کو نقل کرانے سے صاف انکار

مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر کام کرنے والے چیٹ بوٹ نے محنت سے جی چرانے والے طالبعلموں  کو اپنی معلومات، اساتذہ کی رہنمائی اور ماضی کے پرچوں کےذریعے امتحانات کی تیاری کرنے کا مفید مشورہ دیدیا۔

دور حاضر کی انقلابی ایجاد ’چیٹ جی پی ٹی ‘ نے اے لیولز کے امتحان میں عقل کے بجائے نقل سے کام لینے والے طلبہ کی مدد سے صاف انکار کردیا۔

مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر کام کرنے والے چیٹ بوٹ نے محنت سے جی چرانے والے طالبعلموں  کو اپنی معلومات، اساتذہ کی رہنمائی اور ماضی کے پرچوں کے ذریعے امتحانات کی تیاری کرنے کا مفید مشورہ دیدیا۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی جج کی عدالتی فیصلہ سازی میں چیٹ جی پی ٹی سے مدد لینے کی کوشش

علی ظفر کے استفسار پر چیٹ جی پی ٹی نے معاشی بحران کا حل پیش کردیا

مئی جون میں منعقد ہونے والے اے لیول کے امتحانات کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔ایسے میں محنت سے جی چرانے والے چند طالبعلموں نے چیٹ جی پی ٹی کاسہارا لینے کی کوشش کی تو مصنوعی ذہانت کے حامل چیٹ بوٹ نے ان کے چاروں طبق روشن کردیے۔

ایک طالبعلم نے انگریزی کے اسائنمنٹ کیلیے مضمون نگاری کی فرمائش کی تو چیٹ بوٹ نے معذرت کرتے ہوئے طالبعلم کو نقل کرانے سے صاف انکار کردیا تاہم اسے مضمون نگاری کیلیے مفید مشورے عنایت کردیے۔

لیکن لکیر کے فقیر طالبعلم نے چیٹ بوٹ کے فراہم کردہ مشوروں کو پڑھنے کی بھی زحمت نہیں کی اور چیٹ بوٹ کے جواب کو کاپی پیسٹ کرکےاسے  استاد کو جمع کرادیا ۔ اسائمنٹ کو پڑھتے ساتھ ہی استاد نے طالبعلم کی دونمبری کا سراغ لگالیا اور اسے اپنی مدد آپ کے تحت دوبارہ اسائمنٹ تیار کرنے کی ہدایت کردی۔

ایک اور طالبعلم نے اے لیولز  کےامتحانات کے سلسلے میں معیشت کے موضو ع پر مواد حاصل کرنا چاہا تو چیٹ بوٹ نے جواب دیا کہ”میں معذرت خواہ ہوں ، لیکن مصنوعی ذہانت کا حامل ہونے کے باوجودمیری مئی جون میں ہونے والے اے لیول امتحانات کے اکنامکس کے  پرچے  تک رسائی نہیں ہے“۔

چیٹ بوٹ نے اپنے جواب میں مزید لکھاکہ”  ایسے امتحانات  کے بارے میں رہنمائی یا خفیہ معلومات فراہم کرنا غیر اخلاقی فعل ہے جوکہ  تعلیمی بدانتظامی یا نقل کے زمر ے میں شمار ہوتا ہے۔لہٰذا بہتر یہی ہے کہ اپنی تیاری اور معلومات کے ساتھ ساتھ اپنے اساتذہ کی رہنمائی اور سابقہ پرچوں کی مشق پر انحصار کریں“۔

متعلقہ تحاریر