کرونا کا سردیوں میں طاقتور ہوجانا مفروضہ یا حقیقت؟

ماہرین نے اسے موسمی وباء قرار دیا ہے، جبکہ کچھ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ وائرس کا سردی یا گرمی سے کوئی تعلق نہیں

پاکستانی ماہرِ صحت نے اُس تحقیق پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس کا اثر موسم کے حساب سے کم یا زیادہ ہو سکتا ہے۔

پاکستان کے شہر کراچی میں نجی شعبے کے اسپتال ضیاء الدین میڈیکل کے شعبہ میڈیسن کے سربراہ ڈاکٹر علی رضا کا کہنا ہے کہ ”کرونا کے تناظر میں موسم کی تبدیلی کا تاثر حتمی نہیں ہے اِس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ یہ بیماری گذشتہ برس ہی آئی ہے اور اِس پر تحقیق کی جا رہی ہے۔‘‘

گذشتہ برس دسمبر کے وسط میں چین سے شروع ہونے والا کرونا وائرس بہت تیزی سے پوری دنیا میں پھیلا تھا۔ کرونا کی وباء دنیا بھر میں اب تک 4 کروڑ 47 لاکھ سے زیادہ افراد کو متاثر کرچکی ہے۔ جبکہ 11 لاکھ 77 ہزار سے زیادہ افراد کی جانیں بھی لے چکی ہے۔

پاکستان میں یہ وباء گذشتہ برس سردیوں کے اختتام یعنی مارچ میں آئی تھی۔ اُس وقت ماہرین صحت نے خیال ظاہر کیا تھا کہ موسم کی تبدیلی یا درجہ حرارت میں اضافہ وباء کو ختم کردے گا۔ اور ہوا بھی یہی کہ آہستہ آہستہ کرونا نے دم توڑنا شروع کیا۔

لیکن اب جب سردیوں کی آمد آمد ہے یہ وباء ایک بار پلٹ کر آنے لگی ہے۔ چونکہ ماہرین نے اس وباء کو موسمی قرار دیا تھا اس لیے خدشہ ہے کہ سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی اگر وباء پَر پھیلانے لگے تو کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں کرونا کی دوسری لہر لیکن عوام غیرسنجیدہ

اس موضوع پر نیوز360 سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر علی رضا نے بتایا جو ضیاءالدین اسپتال میں ہیڈ آف میڈیسنز ہیں کہ ” گلے اور ناک کے ذریعے پھیپھڑوں تک آنے والے وائرس زیادہ تر موسمی انداز سے چلتے ہیں۔ لیکن کرونا کے بارے میں ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔‘‘

اُنہوں نے گذشتہ برس جون اور جولائی کے گرم موسم میں سامنے آنے والے کیسز کا حوالہ بھی دیا۔ انہوں نے بتایا کہ "گرمی کے موسم میں بارشیں ہوئیں اور نمی کی وجہ سے دھول اور گردوغبار زمین کی سطح پر بیٹھ گیا۔ جس کے باعث وائرس کا زندہ رہنا مشکل ہوگیا۔ اگست میں بارشیں ہوئیں اور لاک ڈاؤن بھی نافذ ہوا۔ ان سب چیزوں نے وائرس کو مل کر قابو کیا۔ محض موسم کا وائرس کی روک تھام میں کوئی کردار ثابت نہیں ہے”۔

کرونا سے بچنے سے متعلق اُنہوں نے چین کے شہر ووہان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "ووہان سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ تھا۔ لیکن چین نے سخت لاک ڈاؤن کے ذریعے اس پر قابو پایا۔ بالکل اسی طرح کی صورتحال نیوزی لینڈ میں بھی تھی، لیکن وہاں بھی اس پر قابو پالیا گیا۔ پاکستان میں یہ لاک ڈاؤن کامیاب ہونا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔‘‘

اُن کے مطابق پاکستان میں سماجی فاصلہ اختیار کرنا آسان کام نہیں ہے۔ لیکن کم از کم غیرضروری رسومات، مالز، ریسٹورنٹس وغیرہ پر پابندیاں سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ اسپتال میں اگر کوئی مریض زیرعلاج ہے تو اس کے ساتھ بھی ایک اٹینڈنٹ کا ہونا کافی ہے۔ غیرضروری ملاقاتیں بند کرنے سے ضرور فائدہ ہوگا۔

تحقیق کیا کہتی ہے؟

کرونا وباء وائرس کے اس خاندان میں سے ہے جسے "اینویلپڈ وائرس” کہا جاتا ہے۔ یہ ایسے وائرس ہوتے ہیں جو کسی چیز میں لپٹے ہوئے ہوں۔ اِس کا مطب ہے کہ ان پر ایک چکنی تہہ ہوتی ہے جسے لیپڈ بایلیئر کہتے ہیں اور جس پر نوکیلی کیلوں کی طرح کے پروٹین ہوتے ہیں جیسے کسی بادشا یا ملکہ کے تاج میں لگے ہوتے ہیں۔ لاطینی زبان میں تاج کو کورونا کہتے ہیں۔

اِس طرح کے وائرس پر کی جانے والی تحقیق کے مطابق گرمی میں یہی چکنی تہہ ان کی کمزوری بن جاتی ہے۔ لیکن سردی میں یہی تہہ سخت ہو کر ربڑ جیسی ہوجاتی ہے۔ اِسی لیے سردی میں یہ تہہ اس وائرس کی دیر تک حفاظت کرتی ہے جبکہ گرمی میں یہ پگھل جاتی ہے۔ اِسی وجہ سے ایسی تہہ والے زیادہ تر وائرسوں پر موسم اثر انداز ہوتا ہے۔

اسکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف ایڈنبرا میں بیماریوں پر تحقیق کے سینٹر سے منسلک کیٹ ٹیمپلیٹن نے بھی دس برس قبل ایک تحقیق کی تھی۔ تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ تین مختلف اقسام کے کرونا وائرس کا تعلق سردی کے موسم سے تھا۔

سردیوں میں کرونا سے کیسے بچا جائے؟

امریکا میں یونیورسٹی آف واشنگٹن اسکول آف میڈیسن کے تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اگر 95 فیصد لوگ ماسک کا استعمال کریں تو اس وباء سے بچنے میں کافی مدد مل سکتی ہے۔

کوویڈ 19
@TheEconomicTimes

صرف امریکا ہی نہیں بلکہ کئی ممالک میں کی جانے والی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ ماسک بیماری کو حملہ آور ہونے سے روک سکتا ہے۔ جب وائرس جسم میں داخل ہونے لگتا ہے تو ماسک آڑے آجاتا ہے۔ ماسک بالکل اس طرح کا کردار ادا کرتا ہے جیسے کسی شخصیت کو بچانے کے لیے اس کا محافظ۔

متعلقہ تحاریر