کرونا کی وباء سے پاکستان کو اب بھی خطرہ؟

پاکستان میں اب تک صرف ایک فیصد لوگوں کو کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگائی گئی ہے جبکہ 50 فیصد لوگ ویکسین لگوانے سے ہچکچاتے ہیں۔

پاکستان میں کرونا کی وباء سے بچاؤ کے لیے ویکسین لگانے کا عمل جاری ہے لیکن اس کے باوجود ماہرین کا خیال ہے کہ ملک کو اس وباء کے تناظر میں پھر بھی خطرہ لاحق ہے۔

امریکا میں مقیم پاکستانی نژاد امریکی ڈاکٹر فہیم یونس نے ٹوئٹر پر پاکستان میں کرونا کی وباء سے متعلق تفصیلات شیئر کی ہیں اور بتایا ہے کہ ملک کو خطرہ کیوں لاحق ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں اب تک صرف ایک فیصد لوگوں کو کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگائی گئی ہے۔ جبکہ 50 فیصد لوگ ویکسین لگوانے سے ہچکچاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ایک فیصد پاکستانی کرونا سے بچاؤ کی ویکسین کے حامل

ڈاکٹر فہیم یونس کے مطابق پاکستان میں 20 کروڑ افراد کرونا کی وباء کا شکار ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے ٹوئٹر پر ان تفصیلات کے ساتھ لکھا کہ یہ ان کی پیشگوئی نہیں بلکہ خدشات ہیں۔

اس سے قبل 29 اپریل کو سینیئر صحافی فرخ سلیم نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگنے کے اعداد و شمار جاری کیے تھے۔ ان اعدادوشمار کے مطابق بھی پاکستان میں اب تک صرف 1 فیصد لوگوں کو ہی ویکسین لگائی گئی ہے۔

جبکہ اس سے ایک روز قبل یعنی 28 اپریل کو وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے حکومتی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ یومیہ ایک لاکھ سے زیادہ ویکسین لگائی گئی ہیں۔ جبکہ مجموعی طور پر 21 لاکھ افراد کو ویکسین دی جاچکی ہے۔

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان میں کرونا کی وباء کے باعث مزید 161 اموات اور 3 ہزار 377 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ پاکستان میں کرونا سے اموات کی مجموعی تعداد 18 ہزار 310 ہوگئی ہے جبکہ وباء سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 8 لاکھ 37 ہزار 523 تک پہنچ گئی ہے۔

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان میں 37 ہزار 587 کرونا کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں جبکہ مثبت کیسز کی شرح 8.89 رہی ہے۔ پاکستان میں کرونا کے ٹیسٹ کی تعداد پہلے اس سے زیادہ تھی جو یومیہ 60 ہزار تک جاچکی ہے۔

متعلقہ تحاریر