حکومتی نااہلی کے باعث ملک بھر میں عام استعمال کی دوا پیناڈول کی قلت
سیلاب اور وبائی امراض کے دوران عام استعمال کی دوا کی قلت نے عوام کی مشکلات بڑھادیں، کابینہ نے ڈریپ کی 2.67روپے فی گولی کی سمری مسترد کرتے ہوئے دوا 1.35روپے میں فروخت کرنے کی منظوری دی، کمپنی کا پیدواری لاگت سے کم پر دوا فروخت کرنے سے انکار، پیداوار روک دی

پاکستان میں بخار اور معمولی درد کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی دوا ساز کمپنی گلیکسو اسمتھ کلائن (جی ایس کے) کی عام دوا پیناڈول مارکیٹوں سے غائب ہو گئی۔
جی ایس کے نے ایک ماہ قبل پیناڈول کی پیداوار روک دی تھی جس کے باعث پیناڈول مارکیٹ میں شارٹ ہونا شروع ہوگئی ہے۔کراچی اور لاہور سمیت ملک کے بیشتر شہروں میں پیناڈول کی گولی میڈیکل اسٹورز پر دستیاب نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیے
کراچی کے سیوریج واٹر میں 14 ماہ میں پہلی بار پولیو وائرس کی تصدیق
سیلاب زدہ علاقوں میں وبائی امراض کے 87373 کیسز رپورٹ
عام استعمال کی دوا کی قلت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک بھر میں غیرمتوقع بارشوں اور سیلاب کے باعث ڈینگی اور ملیریا سمیت وبائی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں 90 فیصد صارفین بخار، سر درد اور ویکسی نیشن شاٹ کے نتیجے میں ہونے والے درد کے علاج کے لیے پیناڈول کا استعمال کرتے ہیں، جب کہ کمپنی ماہانہ پینا ڈول کی 4.5کروڑ گولیاں تیار کرتی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پیناڈول کی مقامی گولیاں جعلی ہیں جبکہ پیناڈول ایکسٹینڈ امپورٹڈ اور اصلی ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں دواؤ ں کی قیمتوں کا تعین کرنے والے ادارے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے پیناڈول کی فی گولی 2.67 روپے میں فروخت کرنے کی منظوری دی تھی تاہم وفاقی کابینہ نے ڈریپ کی سمری مسترد کرتے ہوئےپیناڈول کی فی گولی 1.35 وپے میں فروخت کرنے کی منظوری دی تھی۔
کمپنی کادعویٰ ہے کہ دوا نقصان میں نہیں بیچ سکتے۔پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) نےبھی ایک بیان میں کہا کہ مینوفیکچرر پیداواری لاگت سے کم پر دوا فروخت نہیں کر سکتا۔
دوسری جانب محکمہ صحت پنجاب نے جان بچانے والی ادویات سمیت ادویات کی قلت سے متعلق میڈیا رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں ادویات کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ محکمہ نے بخار کی دوائی سمیت زندگی بچانے والی دوائیوں کی پیداوار روکنے سے متعلق رپورٹس کو بھی مسترد کردیا۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ پینا ڈول کی قلت سے صوبائی حکومت کاکوئی تعلق نہیں، اسکی ذمے دار ڈریپ ہے۔
تجزیہ کاروں نے وفاقی حکومت کو عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور غیر یقینی صورتحال پیدا کرنے کے لیے تمام محاذوں پر بے بس ہونے پر تنقید کا نشانہ بنایا، خاص طور پر سیلاب سے متاثرہ افراد جو خوراک اور صحت کی فراہمی کے لیے مقامی اور غیر ملکی امداد پر انحصار کر رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس میں ملک کے مختلف حصوں میں ملیریا، ڈائریا، ڈینگی اور دیگر سمیت مختلف بیماریوں کے پھیلنے پر روشنی ڈالی گئی جو مون سون کی بارشوں کے بعد عام تھیں، سیلاب جیسی ہنگامی صورتحال کو چھوڑ کر۔
دوسری جانب صحت سمیت تمام شعبوں میں ہر جگہ موجود منافع خوروں کے بے لگام رویے نے بھی شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا جس سے معاشرے کی اخلاقی مخمصے کا پتہ چلتا ہے۔
لیجیے مہنگے بجلی،گیس،تیل،آٹا،دالوں،سبزیوں، گھی وغیرہ سے تنگ غریب عوام اب سیلاب اور ڈینگی کے دوران پیناڈول جیسی بنیادی دوا کی شارٹیج اور بلیک کا بھی شکار۔ اس گولی باز شہبازحکومت کے پاس نہ مہنگائی کا علاج ہے نہ عوام کے کسی درد کی دوا۔ #Panadol pic.twitter.com/O6WvsQaWnu
— Moonis Elahi (@MoonisElahi6) September 11, 2022
ادھر مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری مونس الہٰی نے پیناڈول کی گولی کی عدم دستیابی پر وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔مونس الہٰی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ لیجیے مہنگے بجلی،گیس،تیل،آٹا،دالوں،سبزیوں، گھی وغیرہ سے تنگ غریب عوام اب سیلاب اور ڈینگی کے دوران پیناڈول جیسی بنیادی دوا کی شارٹیج اور بلیک کا بھی شکار ہوگئے۔انہوں نے مزید لکھا کہ اس گولی باز شہبازحکومت کے پاس نہ مہنگائی کا علاج ہے نہ عوام کے کسی درد کی دوا۔









