پاکستان میں خودکشی کی شرح 8 فیصد کی خطرناک حد تک جاپہنچی
خودکشی کی کوشش کرنے والے 200 افراد میں سے ایک کی موت واقع ہوجاتی ہے،عالمی ادارہ صحت کی ملکی رپورٹ

پاکستان میں خودکشی کی شرح 8 فیصد کی خطرناک حد سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ خودکشی کی کوشش کرنے والے 200 افراد میں سے ایک کی موت ہو جاتی ہے۔
اس بات کا انکشاف عالمی ادارہ صحت کے پاکستان میں قائم دفتر کی جانب سے جاری کی گئی ایک حالیہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
حکومتی نااہلی کے باعث ملک بھر میں عام استعمال کی دوا پیناڈول کی قلت
کراچی کے سیوریج واٹر میں 14 ماہ میں پہلی بار پولیو وائرس کی تصدیق
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اس تشویشناک مسئلے پر آگاہی پیدا کرنے کے لیے کاروان حیات نامی ذہنی صحت کے ادارے نےگزشتہ ہفتے کراچی میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ اس تقریب میں ذہنی صحت سے متعلق آگاہی، خودکشی سے نمٹنے اور روکنے کے طریقے اور خودکشی کی وجہ بننے والے ذہنی تناؤ اور دیگر ذہنی عوارض کے علاج کے بارے میں بصیرت انگیز گفتگو کی گئی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے پاکستان میں خودکشی کی بڑھتی ہوئی شرح پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خودکشی کو جرم سمجھنا ایک المیہ ہے اور یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ خودکشی کے بہت سے واقعات رپورٹ نہیں ہوتے۔
ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ تشویشناک ہے کہ پاکستان میں خودکشی کی شرح آٹھ فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔سینیٹر ڈاکٹر کریم احمد خواجہ نے کہا کہ ڈپریشن کے نوجوانوں کی نفسیات پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ زندگی بہت خوبصورت چیز ہے۔









