لاہور ہائیکورٹ کا موسم سرما میں اسکول ہفتے میں 3 دن بند رکھنے کا حکم
پنجاب حکومت اسموگ کے خاتمے میں ناکام ہوچکی ہے، آلودگی پھیلانے والی صنعتوں کو گرانے اورگاڑیوں کو قبضہ میں لینے کی قانون سازی کی جائے، عدالت عالیہ

لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب کے نجی اور سرکاری اسکولوں میں ہفتے میں تین دن تعطیلات کا حکم دے دیا۔
عدالت نے قرار دیا ہے کہ پنجاب حکومت اسموگ کے خاتمے میں ناکام ہوچکی ہے، آلودگی پھیلانے والی صنعتوں کو گرانے اورگاڑیوں کو قبضہ میں لینے کی قانون سازی کی جائے۔
یہ بھی پڑھیے
طبی ماہرین نے فضائی آلودگی کو پاکستان کے لیے سب بڑا خطرہ قرار دے دیا
ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنے والی گاڑیوں کا اسلام آباد میں داخلہ بند
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ اسموگ کی صورتحال بڑی خطرناک ہوچکی ہے، پنجاب حکومت اسموگ کے خاتمے میں ناکام ہوچکی ہے، وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی کو مدد کے لئے رابطہ کیا جائے۔
عدالت نے حکم دیا کہ متعلقہ وفاقی وزیر کو بتایا جائے کہ پنجاب میں اسموگ خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، بیجنگ اور شنگھائی کے علاوہ اسموگ کے حوالے سے عالمی ماہرین کی مدد لی جائے۔ عدالت نے مزید کہا کہ سیکریٹری ماحولیات جرمانوں کےحوالے سے عمل درآمد رپورٹ بھی پیش کریں، سیکریٹری ماحولیات ماحولیاتی آلودگی کا باعث بننے والی صنعتوں کو گرانے کے رولز وضع کریں۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ناقص فرنس آئل استعمال کرنے والی صنعتوں، بھٹوں کوبند کرنے کے بجائے اب گرانے کے رولز بنائیں جائیں، رولز کا مسودہ فوری بنا کر عدالت پیش میں پیش کیا جائے، صرف ایک نوٹس کےبعد اگر باز نہ آئیں تو ایسی صنعتیں گرا دی جائیں۔
عدالت نے حکم دیا کہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں اب سڑکوں پر نظر نہ آئیں، ایسی گاڑیوں کو بھی ایک نوٹس کے بعد قبضے میں لے کر نیلام کرنے کا رولز بنایا جائے۔









