سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی نئی کتب کباڑ میں فروخت ہونے لگیں، ایم پی اے نے ویڈیو شیئر کردی

جی ڈی اے کی ایم پی اے نصرت سحر عباسی نے ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ دیہی سندھ میں ایک ردی فروش کی طرف سے نئی نصابی کتابیں فروخت کی جا رہی ہیں۔

گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کی رکن صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) نصرت سحر عباسی نے ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ دیہی سندھ میں ایک ردی فروش کی دکان پر سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی نئی نصابی کتب فروخت کی جارہی ہیں۔

محکمہ تعلیم سندھ اور سندھ حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے صوبہ بھر میں تعلیم کی ابتر صورتحال ہے ، اور اس حقیقت کو بے نقاب کرتے ہوئے نصرت سحر عباسی نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں کہا گیا کہ اندرون سندھ میں ایک ردی فروش کی جانب سے نئی نصابی کتابیں فروخت کی جارہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

مثبت رپورٹنگ وقت کی اشد ضرورت ہے، سینئر صحافیوں کا موقف

خیبرپختونخوا حکومت نے صحت کارڈ پر مفت علاج معالجے کی سہولیات معطل کردی

نصرت سحر عباسی نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں لکھا ہے کہ "یہ سندھ میں تعلیم کی ابتر حالت ہے کہ غریب لوگوں کے بچوں کو تعلیم سے محروم کرنے کے لیے نئی نصابی کتابیں کباڑ فروش کے ہاتھ میں آگئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نہ سندھ ترقی کرے گا اور نہ ہی پڑھے لکھے سیاستدان اسمبلیوں میں آئیں گے۔”

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Nusrat Sehar Abbasi (@n.s_abbasi)

صوبہ سندھ میں تعلیم کی ابتر حالت اور کرپشن کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔

ہاری ویلفیئر ایسوسی ایشن (HWA) نے گذشتہ اپریل میں ایک رپورٹ جاری کی تھی جس کا موضوع "دی پولیٹیکل اکانومی آف ایجوکیشن ان سندھ ان 2021” تھا۔ ایسوسی ایشن کے صدر اکرم خاصخیلی نے بتایا تھا کہ محکمہ تعلیم کا قلمدان 2021 میں سعید غنی سے سردار شاہ کو منتقل کیا گیا ، تاہم معاملات چلانے کے طریقہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ سندھ ایجوکیشن مینجمنٹ اینڈ انفارمیشن سسٹم (SEMIS) اور سندھ حکومت کی جانب سے تیار کردہ ‘سندھ ایجوکیشن پروفائل’ کو 2016-2017 کے بعد رپورٹ نہیں کیا گیا۔

ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سندھ میں تقریباً 65 لاکھ بچے اسکول جانے سے محروم ہیں ، جن کی عمریں 5 سے 16 کے درمیان ہیں اور وہ صوبے کے بچوں کا 44 فیصد ہیں۔

یہ اعدادوشمار پاک الائنس فار میتھس اینڈ سائنس کے زیر اہتمام ’دی مسنگ تھرڈ – پاکستانی 5 سے 16 سال کے بچوں کا اسکول سے باہر مطالعہ‘ کے عنوان سے کی گئی ایک تحقیق کے بعد سامنے آئے تھے۔

سندھ میں 5 سے 16 سال کی عمر کی بچوں کی کل آباد تقریباً 1 کروڑ 46 لاکھ 75 ہزار 864 ہے ، جبکہ 64 لاکھ 84 ہزار سے زائد بچے اسکول جانے سے قاصر ہیں ، یہ اس آبادی کا 44 فیصد ہے جو اسکول سےباہر ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ 5 سال کی عمر کے 100 فیصد بچے کبھی اسکول نہیں گئے ، جبکہ 64 لاکھ 84 ہزار بچوں میں 63 فیصد بچوں کی عمریں 16 سال ہیں۔

سندھ کے 29 اضلاع میں سے 21 اضلاع میں "آؤٹ آف اسکول چلڈرن” کی شرح 44 فیصد سے بھی زیادہ ہے ۔ سندھ میں سرکاری اسکولوں میں داخلے کی شرح نمایاں طور پر زیادہ ہے ، 21 اضلاع میں 70 فیصد یا اس سے زیادہ بچے سرکاری اسکولوں میں داخل ہیں۔

متعلقہ تحاریر