بینک الفلاح کی سلک بینک کے جائزے کی خواہش

حبیب بینک لمیٹڈ کے بعد بینک الفلاح دوسرا بینک ہے جس کو سلک بینک کے صارفین کے پورٹ فولیو نے اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔

حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل) کے بعد بینک الفلاح لمیٹڈ (بی اے ایف ایل) نے سلک بینک لمیٹڈ (ایس بی ایل) کے صارفین کے مالیاتی پورٹ فولیو کے جائزے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ اس بات کا انکشاف بینک الفلاح (بی اے ایف ایل) کے بورڈز آف ڈائریکٹرز کے پیر کے روز ہونے والے اجلاس میں ہوا ہے۔

بینک الفلاح نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) سے درخواست کی ہے کہ اسے سلک بینک کے صارفین کے قرضہ جات، موجودہ مالیاتی صورتحال اور کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات دیکھنے کی اجازت دی جائے۔

یہ بھی پڑھیے

سلک بینک نے سالانہ رپورٹ کے لیے توسیع مانگ لی

DAILY TIMES

حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل) کی انتظامیہ 2 ہفتے قبل اس سارے عمل کی جانچ پڑتال کرچکی ہے۔ بینک الفلاح دوسرا بینک ہے جس کو سلک بینک کے صارفین کے پورٹ فولیوز نے اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔

ستمبر 2020 میں سلک بینک کے سرمایہ کاری کے تناسب (سی اے آر) کا حجم 5 اعشاریہ 81 فیصد سے کم ہو کر 4 اعشاریہ 16 فیصد پر آگیا تھا جبکہ اسٹیٹ بینک کے وضع کردہ اصولوں کے مطابق کسی بھی بینک کو دیوالیہ ہونے سے بچنے کے لیے اس کے اپنے ذاتی سرمائے کا حجم 11 فیصد ہونا لازمی ہے۔

مالی پریشانیوں میں گھرے سلک بینک لمیٹڈ نے جنوری 2020 کے آغاز میں فوجی فاؤنڈیشن کو اپنے تمام مالیاتی اثاثے فروخت کرنے کی پیشکش کی تھی، تاہم چند ہفتوں کے بعد فوجی فاؤنڈیشن نے سلک بینک کے اثاثہ جات کی تحقیقات کے بعد خریداری سے انکار کردیا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان کے موجودہ وزیر خزانہ شوکت ترین کی زیر قیادت آئی سی ایف، بینک مسقط اور نمورا انٹرنیشنل پر مشتمل کنسورشیم نے نے 2008 میں سلک بینک کے 86 اعشاریہ 55 حصص خریدے تھے۔ وزیر خزانہ شوکت ترین سلک بینک لمیٹڈ کے 11 اعشاریہ 5 فیصد حصص کے مالک ہیں۔

متعلقہ تحاریر